ذیابیطس کی دوائیں کتنے گروہوں میں؟
· 2 منٹ
یہیں سے شروع کریں · 12 میں سے 10

ذیابیطس میں استعمال ہونے والی دوائیں نام سے نہیں، جسم میں جہاں ہاتھ ڈالتی ہیں اس سے گروہوں میں بٹتی ہیں۔ کتنے گروہ نکلتے ہیں یہ اس پر ہے کہ فہرست کس نے بنائی؛ نیچے کے جدول میں نو خاندان ہیں۔ ڈبے پر لکھا نام برانڈ ہے۔ اصل فرق جگر، لبلبے، گردے اور آنت کے کام کی تقسیم میں ہے۔
دوا کی دکان کے کاؤنٹر پر ساتھ کھڑے دو ڈبے ایسے لگتے ہیں جیسے ایک ہی کام کرتے ہوں۔ کرتے نہیں۔ ایک جگر رات کو خون میں جو گلوکوز چھوڑتا ہے اسے گھٹاتا ہے۔ دوسرا گردہ جو گلوکوز چھانتا ہے اس کا ایک حصہ پیشاب سے باہر بھیجتا ہے۔ دوا کی درجہ بندی کرنے والی چیز ڈبے پر لکھا نام نہیں، جسم میں وہ جس عضو کو چھوتی ہے وہ ہے۔
| گروہ | جہاں ہاتھ ڈالتی ہے | جو کام کرتی ہے |
|---|---|---|
| بائیگوانائیڈ (میٹفارمن) | جگر | جگر خون کو جو گلوکوز دیتا ہے اسے گھٹاتی ہے۔ |
| سلفونیل یوریا | لبلبہ | بیٹا خلیے کو انسولین چھوڑنے پر ابھارتی ہے۔ |
| گلینائیڈ | لبلبہ | اسی خلیے کو کھانے کے وقت جگاتی ہے۔ |
| گلیٹازون | پٹھے اور چربی کی بافت | بافت کا انسولین سے جواب مضبوط کرتی ہے۔ |
| DPP-4 روکنے والی | خلیے کی سطح | کھانے کا ہارمون توڑنے والا خامرہ سست کرتی ہے۔ |
| GLP-1 خاندان | لبلبہ، معدہ، دماغ | انسولین چھوڑنے کو کھانے سے باندھتی ہے، معدہ سست کرتی ہے۔ |
| SGLT-2 روکنے والی | گردہ | چھانے گئے گلوکوز کا ایک حصہ پیشاب میں بھیجتی ہے۔ |
| الفا گلوکوسائیڈیز روکنے والی | چھوٹی آنت | نشاستے کے ٹوٹنے کی رفتار سست کرتی ہے۔ |
| انسولین | ساری بافتیں | جو ہارمون نہیں پہنچ رہا اسے باہر سے پورا کرتی ہے۔ |
جدول کی قطاروں کی گنتی عالمی نہیں۔ کوئی فہرست انسولین کو الگ رکھتی ہے، کوئی یہاں موجود نہ ہونے والے پرانے خاندان بھی گنتی ہے۔ قطاروں کی گنتی اعضا کی گنتی سے زیادہ ہے۔ لبلبے پر دو خاندان الگ وقت پر دباؤ ڈالتے ہیں۔ اصل خبر بیچ کے کالم میں کھڑی ہے۔ ایک ہی خاندان کے ڈبے جسم میں ایک ہی دروازے پر دباتے ہیں، الگ خاندانوں کے الگ دروازوں پر۔ خاندان جاننا نام جاننے سے زیادہ بتاتا ہے۔ گردے سے گلوکوز نکالنے والا ڈبہ اور معدہ سست کرنے والا ڈبہ دن کے بہاؤ میں ایک جیسا نشان نہیں چھوڑتے۔
رہنما اصول ان ناموں کو سیڑھی کی طرح نہیں سجاتے۔ نگہداشت معیار میں دوا کا انتخاب خود ایک لمبا باب ہے۔ طے کرنے والی چیز وہ باقی حالتیں ہیں جو شخص اپنے ساتھ رکھتا ہے۔ عالمی ادارہ صحت نے 2025 میں GLP-1 خاندان کو لازمی دواؤں کی فہرست میں لیا۔ سب کے لیے نہیں: ٹائپ 2 ذیابیطس، دل کی نالی یا گردے کی بیماری اور موٹاپا رکھنے والے بڑوں کے لیے۔
بہی کے پہلے صفحے پر تین کالم سما جاتے ہیں: ڈبے کا نام، مؤثر جزو، جس عضو کو چھوتی ہے۔ مؤثر جزو برانڈ کے بالکل نیچے چھوٹے حروف میں لکھا ہوتا ہے۔ آخری کالم بھرنا ایک شام کا کام ہے۔ پھر وہ وہیں رہتا ہے۔ صبح لی جانے والی گولی اور شام والی الگ وقتوں سے کیوں بندھی ہیں، یہ بھی وہی کالم بتاتا ہے۔ نام بھول جاتا ہے، عضو نہیں بھولتا۔
- کیا منہ سے لی جانے والی ساری دوائیں ایک ہی گروہ میں آتی ہیں؟
- نہیں آتیں۔ منہ سے لینا کوئی درجہ نہیں، صرف لینے کا راستہ ہے؛ ایک ہی شیلف کی گولیاں بہت الگ اعضا کی طرف دیکھتی ہیں۔
- میٹفارمن کے علاوہ اور دوا ہے؟
- ہے۔ میٹفارمن بائیگوانائیڈ خاندان کی ہے؛ لبلبے، گردے اور آنت کی طرف دیکھنے والے خاندان جدول میں الگ الگ کھڑے ہیں۔
- کیا انسولین بھی ایک گروہ گنی جاتی ہے؟
- گنی جاتی ہے۔ باقی درجے جسم کا اپنا پرزہ دھکیلتے ہیں، اور انسولین جو ہارمون نہیں پہنچ رہا اسے سیدھا پورا کرتی ہے، اس لیے ٹائپ 1 اور ٹائپ 2 دونوں میں سامنے آتی ہے۔
- کیا دواؤں کے نام یاد کرنے پڑیں گے؟
- نہیں پڑیں گے۔ ڈبہ کس عضو کی طرف دیکھتا ہے یہ جاننا زیادہ کام آتا ہے؛ اسی خاندان کا کوئی اور نام آئے تو حیرت نہیں ہو گی۔
ماخذ
- American Diabetes Association Professional Practice Committee. 9. Pharmacologic Approaches to Glycemic Treatment: Standards of Care in Diabetes—2026. Diabetes Care. 2026;49(Suppl 1):S183–S215. doi:10.2337/dc26-S009
- World Health Organization. WHO updates list of essential medicines to include key cancer, diabetes treatments. Geneva: World Health Organization; 5 September 2025.
- Bailey CJ. Pharmacological therapies for type 2 diabetes: future approaches (narrative review). Diabetologia. 2025;69(1):20–35. doi:10.1007/s00125-025-06581-6
- Türkiye Endokrinoloji ve Metabolizma Derneği (TEMD). Diabetes Mellitus ve Komplikasyonlarının Tanı, Tedavi ve İzlem Kılavuzu-2026. 17. Baskı. TEMD; 2026. ISBN 978-625-99759-8-6
- Klinik Endokrinoloji ve Diyabet Derneği (KEDD). Tip 2 Diyabet Farmakolojik Tedavi Kılavuzu. Yenilenmiş 2. Baskı. KEDD; 2023. ISBN 978-605-74516-0-6