کیا درمیانی کھانا ضروری ہے؟
· 2 منٹ

درمیانی کھانا سب کے لیے لازم نہیں؛ ضرورت ہے یا نہیں، اسے استعمال ہونے والا علاج طے کرتا ہے۔ ایک زمانے میں تین بڑے اور تین درمیانی کھانے تقریباً ایک معیاری نسخہ تھے اور سب کو وہی خاکہ دیا جاتا تھا۔ آج کھانوں کی تعداد شخص کے حساب سے بنتی ہے، کیونکہ علاج کے اوزار بھی شخص کے حساب سے بدلتے ہیں۔
پرانا اصول بے وجہ پیدا نہیں ہوا۔ برسوں پہلے عام رہنے والی انسولین کی قسمیں ایک لمبا اور اوپر نیچے ہوتا اثر دکھاتی تھیں۔ اثر کی چوٹی کے گھنٹوں پر کوئی کھانا نہ آئے تو دن ایک غیر متوقع سمت مڑ جاتا تھا۔ یہ خلا مسئلہ کیوں بناتا ہے، اسے کھانا چھوڑنے پر لکھا ایک الگ مضمون کھولتا ہے۔ درمیانی کھانا اس دور میں یہی خلا بند کرنے والی ایک تیار احتیاط تھا۔ اوزار بدلے، احتیاط کی دلیل بھی بدل گئی۔
آج کی تصویر کہیں زیادہ الگ الگ ہے۔ درمیانی کھانا کام آتا ہے یا نہیں، یہ اس پر ٹکا ہے کہ شخص کون سا علاج استعمال کرتا ہے۔ علاج کے حساب سے بننے والا یہ فرق یہاں کا نہیں، “کاربوہائیڈریٹ گننا کسے کہتے ہیں؟” مضمون کا موضوع ہے۔ درمیانی کھانے کے لحاظ سے اکلوتا سوال یہ ہے: یہ کھانا منصوبے کے اندر کھڑا ہے یا دن کے اوپر جڑ رہا ہے؟ وہی دو قاش روٹی ایک منصوبے میں پہلے سے حساب کیا ہوا ایک خانہ ہے، اور دوسرے منصوبے میں ایک اضافی بوجھ۔
اضافی کھانے کا مطلب اضافی کاربوہائیڈریٹ ہے۔ دن کے اندر کتنی بار کھایا گیا، اس کا موازنہ کرنے والے کام موجود ہیں اور سب ایک ہی طرف نہیں دیکھتے۔ وہی توانائی دو بڑے کھانوں میں بانٹنے والے گروہ اور چھ چھوٹے کھانوں میں بانٹنے والے گروہ کو ملانے والے ایک چھوٹے کام میں، کم کھانوں والے نظام میں وزن کا گھٹنا زیادہ نمایاں نکلا۔ مشاہداتی مجموعے البتہ کھانے کی کثرت اور بدن کے وزن کے بیچ کوئی مستقل جوڑ نہ پا سکے۔ یہ دونوں نتیجے ایک دوسرے کو نہیں جھٹلاتے؛ دونوں اسی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ دن کا مجموعہ، کھانوں کی تعداد سے زیادہ طے کرنے والا ہے۔ معاملہ تعداد کا نہیں، مجموعے کا ہے۔
| حالت | درمیانی کھانا وہاں کیا کرتا ہے |
|---|---|
| اپنی خوراک کھانے کے حساب سے سیٹ کرنے والا شخص | اپنا کاربوہائیڈریٹ اٹھاتا ہے؛ منصوبہ اسے حساب میں لے کر بنتا ہے |
| ثابت خوراک کی انسولین یا انسولین کا اخراج کرانے والی دوا | اثر کھانے سے بندھا نہیں؛ لمبا خلا یہاں اہمیت پکڑتا ہے |
| غذا اور حرکت سے نگرانی میں رہنے والا شخص | زیادہ تر غیر ضروری؛ دن کا مجموعہ بڑا کرتا ہے |
| لمبا سفر، شفٹ، دیر سے آنے والا کھانا | اندازے سے باہر کے خلا کو بند کرنے والی ایک عملی احتیاط |
عادت اور ضرورت بھی اکثر گڈمڈ ہو جاتی ہیں۔ کام کی میز کی دراز میں رکھی ایک مٹھی خشک میوے کی وجہ شام سے پہلے کی بھوک ہو تو جواب ایک ہے، اور دو کھانوں کے بیچ عدد کے نیچے اترنے کا رجحان ہو تو جواب بالکل الگ۔ پہلا ایک ترجیح ہے، دوسرا علاج سے جڑا ایک نشان۔ دونوں ایک چیز نہیں۔ فیصلہ کرنے والا اور کھانے والا الگ ہوں تو یہ فرق اور بھی مشکل سے پڑھا جاتا ہے؛ دونوں صرف اتنے ہی کھلتے ہیں جتنے باہر سے دکھتے ہیں۔
بازار کے شیلف کی پیکٹ والی چیزیں یہ فرق اور دھندلا کر دیتی ہیں۔ جس پیکٹ پر چھوٹا حصہ لکھا ہے، وہ شام کو صوفے پر ایک ہی بیٹھک میں ختم ہو جاتا ہے۔ درمیانی کھانا بھی ایک کھانا ہے، اور اس کا نام چھوٹا ہونے سے اس کا اندر چھوٹا نہیں ہوتا۔
مختصر جواب یہ ہے: لازم نہیں، اور جس پر ٹکا ہے وہ خود علاج ہے۔ کس پر ٹکا ہے، یہ علاج کا منصوبہ جاننے والی ٹیم صاف کرتی ہے۔
ماخذ
- American Diabetes Association Professional Practice Committee. 5. Facilitating Positive Health Behaviors and Well-being to Improve Health Outcomes: Standards of Care in Diabetes-2026. Diabetes Care. 2026;49(Suppl 1):S89-S131. doi:10.2337/dc26-S005
- Gómez-Ruiz RP, Cabello-Hernández AI, Gómez-Pérez FJ, Gómez-Sámano MÁ. Meal frequency strategies for the management of type 2 diabetes subjects: A systematic review. PLoS One. 2024;19(2):e0298531.
- Kahleova H, Belinova L, Malinska H, et al. Eating two larger meals a day (breakfast and lunch) is more effective than six smaller meals in a reduced-energy regimen for patients with type 2 diabetes: a randomised crossover study. Diabetologia. 2014;57(8):1552–1560.
- Canuto R, da Silva Garcez A, Kac G, de Lira PIC, Olinto MTA. Eating frequency and weight and body composition: a systematic review of observational studies. Public Health Nutrition. 2017;20(12):2079–2095.