صبح کی شکر زیادہ ضدی کیوں ہوتی ہے؟
· 2 منٹ

صبح کا عدد رات بھر جگر اور بنیادی انسولین کے بیچ کے توازن سے نکلتا ہے، یہ معلوم ہے۔ فجر کے واقعے میں بدلنے والی چیز یہ ہے کہ صبح کی طرف اس توازن کے ایک رخ پر چند اور ہارمون آ چڑھتے ہیں: شخص کچھ کھائے بغیر، نیند چلتے ہوئے عدد اوپر چلا جاتا ہے۔ ضد کا سرچشمہ کھانا نہیں، گھڑی ہے۔
رات بھر بدن خالی نہیں بیٹھتا۔ اس کا کام چلتا رہتا ہے۔ صبح کی طرف بڑھوتری کے ہارمون، کورٹیزول اور ایڈرینالین جیسے ہارمون کا اخراج بڑھتا ہے؛ سب جگر تک ایک ہی پیغام لے جاتے ہیں اور رات کی گلوکوز کی رہائی اوپر کھینچتے ہیں۔ ذیابیطس نہ رکھنے والے میں یہ نکلنا بے جواب نہیں رہتا، توازن نہیں بگڑتا۔ ذیابیطس میں جواب یا دیر کرتا ہے یا کافی نہیں ہوتا۔ جگر کے اس ذخیرے کے کام کو تفصیل سے بتانے والا ایک الگ مضمون ہے؛ یہاں کا موضوع خود گھڑی ہے۔
نتیجہ وہی ضدی اونچائی ہے جو جاگنے پر دکھتی ہے؛ ادب میں وہ فجر کے واقعے کے نام سے آتی ہے۔ تیس سال سے زیادہ کی تحقیق نے یہ تصویر ٹائپ 1 میں بھی اور ٹائپ 2 میں بھی دکھائی۔ پیمائش رات کے بیچ نہیں، جاگنے سے ذرا پہلے کے گھنٹوں میں چڑھتی ہے۔ یہ وہ چیز ہے جو شخص کے سوتے ہوئے اور کچھ نہ کھاتے ہوئے ہوتی ہے۔ دو سو سے زیادہ لوگوں کو دیکھنے والے ایک کام میں تصویر، استعمال ہونے والے دوا کے گروہ سے آزاد رہ کر ملتی جلتی نکلی۔
دوسرا معاملہ وقت کا ہے۔ وہ الگ سے وزن رکھتا ہے۔ صبح کا کھانا، پہلے ہی چڑھ رہے ایک خط کے اوپر آ بیٹھتا ہے؛ اس کا آغاز کا نقطہ شام والے سے الگ ہے۔ یہ ہارمون اس کے علاوہ انسولین کے اثر کو کھرچ دیتے ہیں، اور وہی مقدار کم کام کرتی ہے۔ صبح کی پلیٹ کا کاربوہائیڈریٹ اسی لیے شام کے خط کو ہو بہو نہیں دہراتا۔ فرق کچھ لوگوں میں نمایاں ہے، کچھ میں تقریباً نہیں۔ بلوغت کے برسوں میں بڑھوتری کا ہارمون زیادہ نکلتا ہے اور وہی تصویر زیادہ نمایاں ہو جاتی ہے؛ وہاں پیمانہ رات نہیں، سال ہے۔
ایک پرانی بحث بھی یہاں آ جاتی ہے۔ اس کا اپنا نام ہے۔ سوموجی اثر کہلانے والی رائے کے مطابق رات کا ایک نیچا عدد، صبح کی طرف ایک ردعمل کے چڑھاؤ پر ختم ہوتا ہے۔ بعد کے کاموں نے یہ زنجیر زیادہ تر تصدیق نہیں کی؛ فجر کا واقعہ البتہ رات کے گرنے کے بغیر بھی سامنے آ جاتا ہے۔ مسلسل گلوکوز کی نگرانی دونوں کو الگ کرتی ہے، کیونکہ وہ رات بھر کا پورا خط دکھاتی ہے۔
| رات بھر کا خط | صبح کا منظر | اس کا نام |
|---|---|---|
| سیدھا چلتا ہے، صبح کی طرف چڑھتا ہے | جاگنے پر اونچا | فجر کا واقعہ |
| رات میں نیچے آتا ہے، پھر چڑھتا ہے | جاگنے پر اونچا | ردعمل کے چڑھاؤ کی بحث |
| لیٹتے وقت اونچا شروع ہوتا ہے، ویسا ہی رہتا ہے | جاگنے پر اونچا | شام سے آنے والا بوجھ |
جاگنے کا منظر ایک جیسا ہو تب بھی اس کے پیچھے کی کہانی تین الگ راستوں سے آ سکتی ہے۔ فرق کرنے والی چیز جاگنے کے لمحے کا ایک عدد نہیں، پوری رات ہے۔ اسی لیے بستر سے اٹھتے ہی لی گئی ایک پیمائش اکثر ادھوری رہ جاتی ہے۔ ایک ہی شخص میں وہی گھڑی بھی دن بہ دن الگ برتاؤ کر سکتی ہے۔ نیند کا نظم، شام کے وقت کی چہل قدمی اور دوا کے اثر کا عرصہ بھی تصویر میں شامل ہو جاتے ہیں۔ قدریں کئی دن ضدی چل رہی ہوں تو اپنے معالج سے پوچھیں۔
ماخذ
- O’Neal TB, Luther EE. Dawn Phenomenon. In: StatPearls [Internet]. Treasure Island (FL): StatPearls Publishing; 2026; NCBI Bookshelf NBK430893.
- Porcellati F, Lucidi P, Bolli GB, Fanelli CG. Thirty years of research on the dawn phenomenon: lessons to optimize blood glucose control in diabetes. Diabetes Care. 2013;36(12):3860-3862.
- Monnier L, Colette C, Dejager S, Owens D. Magnitude of the dawn phenomenon and its impact on the overall glucose exposure in type 2 diabetes: is this of concern? Diabetes Care. 2013;36(12):4057-4062.
- American Diabetes Association Professional Practice Committee. 6. Glycemic Goals, Hypoglycemia, and Hyperglycemic Crises: Standards of Care in Diabetes—2026. Diabetes Care. 2026;49(Suppl 1):S132-S149.