غذائی لیبل کیسے پڑھیں؟
· 2 منٹ

غذائی قدر کا لیبل پڑھنا ایک ترتیب کا کام ہے اور یہ ترتیب سب سے اوپر سے، یعنی سرو کے ناپ سے شروع ہوتی ہے۔ یہ ترتیب چھوڑنے والا درست عدد کو غلط مقدار کے لیے پڑھ لیتا ہے۔ اجزا کی فہرست بھی ایک الگ خبر اٹھاتی ہے، کیونکہ وہاں سامان اپنے وزن کے حساب سے قطار میں لگتا ہے۔
سب سے اوپر کی سطر ہر چیز کی چابی ہے۔ یہ سرو کا ناپ ہے۔ لیبل کے سارے عدد اسی مقدار کو بیان کرتے ہیں، پورے پیکٹ کو نہیں۔ کچھ لیبل دو کالم اٹھاتے ہیں، ایک سو گرام کے حساب سے اور دوسرا ڈبے یا سرو کے حساب سے۔ غلط کالم پڑھنے والا شخص عدد کو اصل سے بڑا یا چھوٹا دیکھتا ہے۔ ڈبہ ہاتھ میں گھما کر یہ فرق کر لینا چند سیکنڈ لیتا ہے۔
اگلا پڑاؤ کاربوہائیڈریٹ کی سطر ہے۔ یہ سطر ایک چھتری کی طرح کام کرتی ہے اور نشاستے کو بھی اور شکر کو بھی ساتھ گنتی ہے۔ شکر کی سطر نیچی ہے اس لیے کل بھی نیچا ہو گا، یہ سوچنا اسی لیے دھوکہ دیتا ہے۔ ایک بسکٹ اور ایک نمکین کریکر کی شکر کی سطریں بہت الگ ہو سکتی ہیں، اور ان کے کاربوہائیڈریٹ ایک دوسرے کے قریب نکل سکتے ہیں۔ ریشہ اس چھتری کے اندر ہے یا نہیں؟ یہ لیبل کے ملک کے اصول پر منحصر ہے۔ کسی نظام میں ریشہ کاربوہائیڈریٹ کی سطر کے اندر گنا جاتا ہے۔ کسی میں وہ ایک الگ سطر بن کر باہر کھڑا رہتا ہے۔ فرق خود کاغذ دکھا دیتا ہے۔ اندر گنے جانے والے خانے کاربوہائیڈریٹ کے نیچے اندر کی طرف ہٹا کر لکھے جاتے ہیں، اور باہر کھڑے وہی سیدھ میں اپنی سطر میں رہتے ہیں۔
| لیبل کی سطر | کیا بتاتی ہے | عام کی جانے والی غلطی |
|---|---|---|
| سرو کا ناپ | سارے عدد جس مقدار پر ٹکے ہیں | اسے پورے پیکٹ سے ملا دینا |
| کاربوہائیڈریٹ | نشاستے اور شکر کا مجموعہ | صرف شکر کی سطر دیکھنا |
| شکر | کل کاربوہائیڈریٹ کے اندر کی ایک ذیلی سطر | اسے ایک الگ خانہ شمار کرنا |
| ریشہ | نہ ہضم ہونے والی کاربوہائیڈریٹ کی قسم | ہر لیبل میں اسے کاربوہائیڈریٹ کے اندر گننا |
| شکر کا الکحل | جزوی طور پر جذب ہونے والا میٹھا خاندان | اسے کاربوہائیڈریٹ کے بغیر شمار کرنا |
| اجزا | وزن کے حساب سے گھٹتی ترتیب | ترتیب کو اتفاقی سمجھنا |
شکر کی سطر کے نیچے دو الگ تصور ہیں۔ دونوں ایک نہیں۔ کل شکر، چیز کے اندر کی ساری سادہ شکر سمیٹتی ہے اور دودھ کی اور پھل کی قدرتی شکر بھی اس میں شامل ہے۔ جوڑی گئی شکر البتہ وہ حصہ دکھاتی ہے جو بنانے کے دوران چیز میں داخل ہوا۔ عالمی ادارہ صحت ایک زیادہ چوڑا مجموعہ بیان کرتا ہے۔ آزاد شکر کہلانے والے اس مجموعے میں جوڑی گئی شکر کے ساتھ شہد، شیرہ اور پھل کے رس کی شکر بھی آتی ہے۔ جوڑی گئی شکر کی ایک الگ سطر ہر لیبل میں جگہ نہیں پاتی۔
اجزا کی فہرست اسی چیز کو ایک اور رخ سے بیان کرتی ہے۔ سامان وزن کے حساب سے گھٹتی ترتیب پر چلتا ہے، یعنی شروع میں جو ہے چیز میں سب سے زیادہ وہی ہے۔ شکر ایک سے زیادہ ناموں سے آ سکتی ہے، مثلاً شیرہ، گاڑھا رس، شہد اور اسی طرح کے ناموں سے۔ ہر ایک الگ الگ آئے تو فہرست کی نچلی قطاروں میں رہ جاتی ہے، اور ان کا مجموعہ اوپر چڑھ جاتا ہے۔ فہرست دیکھنا اسی لیے عددوں کو دیکھنے کو مکمل کرتا ہے۔
لیبل پڑھنا ایک ہنر ہے۔ وہ وقت کے ساتھ تیز ہو جاتا ہے۔ الماری سے ایک پیکٹ اٹھاتے وقت یا خریداری کے دوران وہی تین قدم کافی رہتے ہیں۔ ایک ہی چیز کے چھوٹے اور بڑے ناپ الگ سرو کا ناپ اٹھا سکتے ہیں۔ اسی لیے ایک جانی پہچانی چیز بھی کبھی کبھار گھما کر پڑھے جانے کی حق دار ہے۔ باقی تفصیل ہے اور ضرورت پڑنے پر دیکھ لینا کافی ہے۔
ماخذ
- Codex Alimentarius Commission. Guidelines on Nutrition Labelling (CXG 2-1985), adopted 1985, revised 2011, amended through 2013; Annex revised 2015. Rome: FAO/WHO.
- Codex Alimentarius Commission. General Standard for the Labelling of Prepackaged Foods, CXS 1-1985 (Codex Stan 1-1985), last amended 2010. FAO/WHO, Rome.
- World Health Organization. Guideline: Sugars Intake for Adults and Children. Geneva: World Health Organization; 2015. ISBN 978-92-4-154902-8.
- American Diabetes Association Professional Practice Committee. 5. Facilitating Positive Health Behaviors and Well-being to Improve Health Outcomes: Standards of Care in Diabetes-2026. Diabetes Care. 2026;49(Suppl 1):S89-S131. doi:10.2337/dc26-S005