کیا شکر گرانے والی بوٹیاں واقعی کام کرتی ہیں؟
· 2 منٹ

شکر گرانے کی بات کہی جانے والی جڑی بوٹیوں کے لیے ہاتھ میں کوئی صاف جواب نہیں، کیونکہ تحقیقات ایک دوسرے سے نہیں ملتیں۔ دار چینی، کرومیم، میتھی اور بربرین کے مجموعوں میں سے کوئی چھوٹی سی بہتری بتاتا ہے، کوئی کوئی فرق نہیں پاتا۔ اصل معاملہ البتہ کہیں اور کھڑا ہے: ان چیزوں کی نگرانی دواؤں جیسی نہیں۔
ثبوت کی تصویر بکھری ہوئی ہے۔ دار چینی کے مجموعے آپس میں نہیں ملتے۔ دس کے قریب تحقیقات جمع کرنے والا ایک پرانا منظم مجموعہ شکر کے پیمانوں میں بامعنی فرق نہ پا سکا۔ زیادہ نیا اور زیادہ تحقیقات جمع کرنے والا ایک مجموعہ ایک چھوٹی بہتری بتاتا ہے۔ کرومیم کے لیے نتیجے ایک تحقیق سے دوسری تک بکھرے رہے۔ بربرین اور میتھی کے لیے اثر بتانے والے مجموعے موجود ہیں، مگر کم شرکا کے ساتھ اور چند ہفتوں تک محدود۔ مسئلہ ہر بار ایک ہی جگہ جمع ہوتا ہے۔ چھوٹے گروہ، مختصر عرصہ، ایک دوسرے سے نہ ملتی چیزیں۔
اس کی ایک وجہ بھی ہے۔ بوٹی کا نام کوئی معیار نہیں۔ کسی تجربے میں استعمال ہونے والا ست ایک خاص پودے کے خاص حصے سے ایک خاص طریقے سے نکالا جاتا ہے۔ بازار کے شیلف کا سفوف ایک اور عمل کی پیداوار ہے۔ کاٹنے کا وقت اندر کی چیز ہلا دیتا ہے۔ خشک کرنا اور پیسنا بھی۔ اسی لیے ایک مثبت تجربے کا نتیجہ اسی نام والی دوسری ڈبی کو منتقل نہیں ہوتا۔ نام دیکھ کر وہی نتیجہ توقع کرنا یہاں دھوکہ دیتا ہے۔
- باہمی اثر: شکر گرانے والی دوا کے ساتھ لی جانے والی کچھ بوٹیاں کل اثر بڑا کر دیتی ہیں؛ اس رشتے کی تفصیل دواؤں کے ایک دوسرے پر اثر بتانے والا الگ مضمون کھولتا ہے۔ گرنا اپنے آپ کو پسینے، کپکپی، دل کی دھڑکن، اچانک بھوک اور توجہ کے بکھرنے سے ظاہر کرتا ہے؛ یہ تصویر کوئی نئی چیز شامل کرنے کے بعد گھنی ہوئی ہو تو وجہ وہی چیز ہو سکتی ہے۔
- نگرانی: سپلیمنٹ زیادہ تر جگہوں پر دوا کی طرح نگرانی میں نہیں آتے؛ شیلف پر آنے سے پہلے ان سے اثر اور حفاظت کا ثبوت نہیں مانگا جاتا، اور اندر کی چیز اور خالص پن ایک کھیپ سے دوسری تک ہلتا ہے۔ شکر گرانے والی کہہ کر بیچی جانے والی جڑی بوٹیوں کی چیزیں جمع کرنے والی ایک جانچ نے زیادہ تر ڈبیوں میں لیبل پر نہ لکھا ہوا دوا کا مؤثر جزو پایا۔ سب سے زیادہ نکلنے والا سلفونیل یوریا کے گروہ سے تھا، اور اس کے ساتھ حفاظت کی وجہ سے بازار سے اٹھائی گئی ایک پرانی شکر کی دوا تھی۔ یہ چیزیں استعمال کرنے والوں کے دو تہائی میں نقصان دیکھا گیا اور اس کی سب سے عام شکل شکر کا گرنا تھی۔
- تاخیر: کام کرتی سمجھی جانے والی ایک چیز، اصل علاج کی جگہ لے سکتی ہے۔ اس دور میں کوئی پیمائش نہ ہونے کی وجہ سے چڑھتے ہوئے عدد کہیں درج نہیں ہوتے؛ حالت صرف اگلی جانچ میں دکھنے لگتی ہے۔
جس وٹامن یا معدنیات کی کمی دکھائی جا چکی ہو، اسے پورا کرنا الگ موضوع ہے۔ وہ اس صفحے کی بات نہیں۔ اس کی سب سے معلوم مثال میٹفارمن ہے: لمبے عرصے استعمال ہونے پر اسے B12 کے درجے کے گرنے سے جوڑا جاتا ہے، اور رہنما اصول اس گروہ میں یہ درجہ وقتاً فوقتاً ناپنے کا ذکر کرتے ہیں۔ ایک طے شدہ کمی بند کرنا، شکر گرانے کی امید میں شیلف کے سامنے کھڑے ہو کر چیز چننے سے ایک کام نہیں۔
ثبوت اور نگرانی یہاں ایک ہی سمت میں ادھورے ہیں۔ دونوں ایک جگہ خاموش ہیں۔ ایک دوا سے مانگا جانے والا ثبوت، وہی دعویٰ اٹھانے والی جڑی بوٹی کی چیز سے نہیں مانگا جاتا؛ ڈبی پر لکھا جملہ کسی تحقیق سے نہیں، ایک تجارتی فیصلے سے آتا ہے۔ ڈبی ہاتھ میں لینے والے کو دکھنے والا واحد پیمانہ بھی وہی جملہ ہے۔
ماخذ
- Leach MJ, Kumar S. Cinnamon for diabetes mellitus. Cochrane Database Syst Rev. 2012;2012(9):CD007170.
- McKennon SA. Non-Pharmaceutical Intervention Options For Type 2 Diabetes: Complementary and Integrative Health Approaches. In: Endotext. MDText.com; 2024. Bookshelf ID NBK279062.
- Ching CK, Lam YH, Chan AYW, Mak TWL. Adulteration of herbal antidiabetic products with undeclared pharmaceuticals: a case series in Hong Kong. Br J Clin Pharmacol. 2012;73(5):795-800.
- American Diabetes Association Professional Practice Committee. 9. Pharmacologic Approaches to Glycemic Treatment: Standards of Care in Diabetes-2026. Diabetes Care. 2026;49(Suppl 1):S183-S215. PMCID: PMC12690185.