کیا ذیابیطس خاندان سے آتی ہے؟
· 2 منٹ

ذیابیطس آنکھ کے رنگ کی طرح سیدھی منتقل ہونے والی خاصیت نہیں؛ وراثت سے جو جاتا ہے وہ بیماری خود نہیں، اس کی طرف جھکاؤ ہے۔ خاندان میں ذیابیطس ہو تو خطرہ واقعی بڑھ جاتا ہے۔ بڑھنے کی مقدار البتہ اس پر ہے کہ کس قسم کی بات ہو رہی ہے اور رشتہ کتنا قریب ہے۔ فرق دونوں قسموں میں کافی بڑا نکلتا ہے۔
وراثت کا حصہ ہر قسم میں ایک جیسا نہیں۔ ٹائپ 2 میں خاندان کا نشان صاف ہے۔ ماں، باپ یا بہن بھائی میں تشخیص ہو تو خطرہ، خاندانی تاریخ نہ رکھنے والوں کے مقابلے تقریباً تین گنا اونچا ملتا ہے۔ ٹائپ 1 میں بھی وراثتی زمین ہے، مگر تصویر زیادہ الجھی ہوئی۔ ایک ہی انڈے سے آنے والے جڑواں بچوں کے جین بالکل ایک جیسے ہوتے ہیں۔ ایک میں بیماری نکلے تو لمبی نگرانی میں دوسرے میں نکلنے کا امکان آدھے سے بڑھ جاتا ہے۔ وہی جین، الگ نتیجہ۔
ماں سے جاتی ہے یا باپ سے؟ ٹائپ 1 میں باپ کی تشخیص، ماں کی تشخیص کے مقابلے بچے کا خطرہ تقریباً دگنا کر دیتی ہے۔ ٹائپ 2 میں ماں اور باپ دونوں طرف ساتھ گنی جاتی ہیں۔ بچے تک جو جاتا ہے وہ پھر بھی تشخیص نہیں، زمین ہے۔ ایسے والدین کے بچوں کے بڑے حصے میں بیماری کبھی نہیں نکلتی۔
| خاندان کی حالت | خطرے میں اس کا مطلب |
|---|---|
| ماں یا باپ میں ٹائپ 2 ذیابیطس | عمر بھر کا خطرہ دس میں سے چار کے آس پاس |
| ماں اور باپ دونوں میں تشخیص | خطرہ دس میں سے سات کے قریب پہنچتا ہے |
| بہن بھائی میں ٹائپ 1 ذیابیطس | عام آبادی کے مقابلے دس گنا سے زیادہ؛ اس کے باوجود بیشتر بہن بھائیوں میں کبھی نہیں نکلتی |
| ایک جین سے آنے والی نادر صورتیں | اوٹوسومل ڈومیننٹ وراثت؛ ہر بچے کے لیے آدھا آدھا |
ٹائپ 2 میں معاملہ ایک جین پر نہیں ٹکتا۔ ایک دوسرے سے آزاد بہت سے جین علاقے ملے ہیں۔ ہر ایک خطرے کو تھوڑا سا بدلتا ہے۔ آج تک ملی ساری خطرے کی صورتیں مل کر بھی خاندانوں میں دیکھی جانے والی وراثت کا صرف دسواں حصہ بیان کرتی ہیں۔ خاندان میں جمع ہونا اسی لیے ایک خراب جین کا نشان نہیں، بہت سے چھوٹے اثرات کا مجموعہ ہے۔ ایک جین سے آنے والی صورتیں الگ عنوان ہیں۔ نسل در نسل کم عمری میں تشخیص پانے والے، وزن زیادہ نہ رکھنے والے اور اینٹی باڈی نہ رکھنے والے خاندانوں میں یہ ذہن میں آتی ہیں۔ اس نادر تصویر میں وراثت واقعی آنکھ کے رنگ جیسی چلتی ہے۔
ذیابیطس متعدی بیماری نہیں۔ عالمی ادارہ صحت اسے غیر متعدی بیماریوں میں گنتا ہے۔ وہی باورچی خانہ، وہی پلیٹ، وہی روٹی بانٹنا بیماری نہیں لے جاتا۔ خاندانوں میں بٹنے والی چیز بھی صرف جین نہیں۔ ناشتے کا نظام، شام کی بے حرکتی، چہل قدمی کی عادت، سونے کے وقت بھی نسلوں میں منتقل ہوتے ہیں۔ ٹائپ 2 میں انسولین مزاحمت کے خاندانوں میں جمع ہونے کا ایک حصہ اسی مشترک بُنت سے آتا ہے۔ حمل میں سامنے آنے والی تصویر کا خاندانی تاریخ سے رشتہ “حمل کی ذیابیطس کیا ہے؟” عنوان والا مضمون دکھاتا ہے۔
کیا پیدائشی ہے؟ جین پیدائش پر اپنی جگہ ہوتے ہیں، بیماری بعد میں نکلتی ہے۔ جھکاؤ کے ساتھ پیدا ہونے والے بچے میں تشخیص برسوں، بلکہ دہائیوں بعد آتی ہے۔ خود کار مدافعتی عمل بھی اچانک شروع نہیں ہوتا؛ خاموشی سے آگے بڑھتا ہے، پھر نظر آنے لگتا ہے۔ خاندانی تاریخ کا عملی مطلب بھی یہیں ہے: رہنما اصول پہلے درجے کے رشتہ دار میں ذیابیطس ہونے کو، جانچ کے فیصلے میں وزن رکھنے والے عوامل میں گنتے ہیں۔
خاندانی تاریخ نہ بدلنے والی معلومات ہے، مگر خطرے کے نقشے کا سب کچھ نہیں۔ الٹا بھی سچ ہے: ٹائپ 1 کی تشخیص پانے والوں میں سے دس میں نو کے خاندان میں یہ بیماری کبھی نہیں تھی۔
ماخذ
- Steck AK, Rewers MJ. Genetics of type 1 diabetes. Clin Chem. 2011;57(2):176-185. doi:10.1373/clinchem.2010.148221
- Ali O. Genetics of type 2 diabetes. World J Diabetes. 2013;4(4):114-123. doi:10.4239/wjd.v4.i4.114
- American Diabetes Association Professional Practice Committee. 2. Diagnosis and Classification of Diabetes: Standards of Care in Diabetes—2026. Diabetes Care. 2026;49(Suppl 1):S27–S49. doi:10.2337/dc26-S002
- Naylor R, Knight Johnson A, del Gaudio D. Maturity-Onset Diabetes of the Young Overview. In: GeneReviews. Seattle (WA): University of Washington, Seattle; 1993-2026. Published 24 May 2018.
- Monod C, Kotzaeridi G, Linder T, Eppel D, Rosicky I, Filippi V, Tura A, Hösli I, Göbl CS. Prevalence of gestational diabetes mellitus in women with a family history of type 2 diabetes in first- and second-degree relatives. Acta Diabetol. 2023;60(3):345-351. doi:10.1007/s00592-022-02011-w
- World Health Organization. Diabetes (fact sheet). Geneva: WHO; 14 November 2024.