ذیابیطس آنکھ کے ساتھ کیا کرتی ہے؟
· 3 منٹ

ذیابیطس آنکھ کو ریٹینا کے راستے چھوتی ہے: جالی دار پردے کو پالنے والی باریک نالیاں پہلے رستی ہیں، پھر بند ہوتی ہیں۔ آگے کے مرحلے میں نازک نئی نالیاں پیدا ہوتی ہیں۔ سب سے اہم تفصیل یہ ہے: ابتدائی مرحلے میں بینائی بالکل نہیں بگڑتی۔ جانچ اسی لیے شکایت کا انتظار نہیں کرتی، آنکھ کے پیچھے دیکھتی ہے۔
ریٹینا آنکھ کی پچھلی دیوار کا باریک جالی دار پردہ ہے۔ روشنی کو اشارے میں بدلنے والے خلیے وہیں کھڑے ہیں۔ اس تہہ کو بدن کی سب سے باریک نالیاں پالتی ہیں۔ لمبے عرصے اونچا چلنے والا گلوکوز ان نالیوں کی دیوار کمزور کرتا ہے: سہارا دینے والے خلیے غائب ہوتے ہیں، بنیادی جھلی موٹی ہوتی ہے۔ دیوار رسنے والی ہو جائے تو سیال اور پروٹین ریٹینا میں رستے ہیں؛ وہی عمل نالیوں کے ایک حصے کو بالکل بند بھی کر دیتا ہے۔
بند ہونے والا علاقہ آکسیجن کے بغیر رہ جاتا ہے۔ ریٹینا مدد بلاتی ہے۔ نکلنے والے بڑھنے کے اشارے نئی نالیاں بنواتے ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ یہ نئی نالیاں نازک ہوتی ہیں اور خون بہاتی ہیں؛ ذیابیطسی ریٹینوپیتھی کا آگے کا مرحلہ یہی ہے۔ خون آنکھ کے اندر پھیلے تو منظر اچانک دھندلا جاتا ہے یا تیرتے سیاہ داغ نمودار ہوتے ہیں۔
میکولا کی سوجن ایک الگ عنوان ہے۔ وہ الگ سے پڑھی جاتی ہے۔ میکولا ریٹینا کے بالکل بیچ کا تیز دیکھنے کا علاقہ ہے؛ فون کی سکرین، چہرے اور تحریر اسی سے پڑھی جاتی ہے۔ رسنے والا سیال یہاں جمع ہو تو ریٹینا موٹی ہو جاتی ہے اور بیچ کی بینائی مدھم پڑتی ہے۔ ذیابیطس میں بینائی گھٹنے کی سب سے بڑی وجہ یہی ہے اور یہ ریٹینوپیتھی کے آگے کے مرحلے کا انتظار کیے بغیر سامنے آتی ہے۔
ابتدائی مرحلے کا سب سے دھوکہ دینے والا پہلو خاموشی ہے۔ وہ لمبی چلتی ہے۔ نالیاں بدلنا شروع کر چکی ہوں اور بینائی کی تیزی پوری کھڑی رہتی ہے؛ پڑھنا بھی نہیں بگڑتا اور گاڑی چلانا بھی۔ ریٹینوپیتھی اسی لیے شکایت سے نہیں، نظر سے پکڑی جاتی ہے۔ آنکھ کے پیچھے کے معائنے میں قطرے سے پتلی بڑی کی جاتی ہے، پھر معالج ریٹینا کو ایک خاص روشنی سے یا ریٹینا کے کیمرے سے دیکھتا ہے۔ وہ خود نالیوں کو ڈھونڈتا ہے: باریک نالیوں کے چھوٹے غبارے، نقطوں جیسے خون کے دھبے، رساؤ کے چھوڑے ہوئے زردی مائل داغ۔ امریکن ذیابیطس ایسوسی ایشن کے دیکھ بھال کے معیار اس معائنے کو علامت ڈھونڈے بغیر سامنے لاتے ہیں؛ آغاز ذیابیطس کی قسم کے حساب سے کیوں کھسکتا ہے، یہ جانچ کا مضمون اٹھاتا ہے۔
آنکھ اپنے آپ کو سنانا شروع کرے تو پکڑی جانے والی چیزیں یہ ہیں:
- بینائی کے بالکل بیچ میں مدھم پن؛ سیدھی لکیروں کا لہر دار یا ٹوٹا ہوا دکھنا
- اچانک نمودار ہونے والے تیرتے داغ، بال جیسے سائے، ایک سرخی مائل دھند
- بینائی کے میدان کے ایک کونے پر اترنے والا پردہ یا ٹھہرا ہوا سایہ
- رات کو گاڑیوں کی بتیوں کے گرد بڑھتی چمک، اندھیرے سے مانوس ہونے کا مشکل ہونا
- ایک آنکھ بند کرنے پر پکڑی جانے والی وہ دھندلاہٹ جو دوسری میں نہیں
ان نشانوں کا زیادہ تر حصہ دنوں میں بیٹھتا ہے۔ سب ایسے نہیں۔ اچانک آنے والا پردہ، یکایک بڑھ جانے والے داغ یا ایک آنکھ میں تیزی سے گرنے والی بینائی البتہ الگ کھڑے ہیں۔ آنکھ کے اندر کا خون بہنا اور ریٹینا کا الگ ہونا گھنٹوں کے پیمانے پر بڑھتے ہیں اور فوری آنکھ کی جانچ مانگتے ہیں۔ جلدی کو طے کرنے والی چیز علامت کی شدت نہیں، اس کا اچانک آنا ہے۔
- بینائی ٹھیک ہو تب بھی آنکھ کی جانچ ضروری ہے؟
- ہاں، اور وجہ بالکل یہی ہے: ابتدائی ریٹینوپیتھی بینائی پر اثر نہیں ڈالتی۔ نالیوں کی تبدیلیاں صرف ریٹینا کو دیکھنے پر سامنے آتی ہیں؛ شخص اس وقت کچھ محسوس نہیں کرتا۔
- کیا دھندلی بینائی ہمیشہ ریٹینوپیتھی ہوتی ہے؟
- نہیں، ایک عارضی قسم بھی ہے۔ گلوکوز تیزی سے بدلے تو آنکھ کے عدسے کا پانی کا توازن بگڑتا ہے، اس کی قوت کھسک جاتی ہے اور منظر صاف نہیں آتا۔ گلوکوز بیٹھ جانے کے بعد عدسہ اپنی پرانی حالت پر لوٹتا ہے؛ یہ سنبھلنا ہفتے لیتا ہے، اس لیے اس دور میں ناپا گیا چشمے کا نمبر بیٹھا ہوا نہیں مانا جاتا۔ ریٹینا سے جڑی دھندلاہٹ البتہ بیچ میں مدھم پن، ٹیڑھے پن یا تیرتے داغوں کے ساتھ آتی ہے۔
- شکر سنبھل جائے تو کیا ریٹینوپیتھی واپس مڑتی ہے؟
- ابتدائی مرحلے کی تبدیلیوں کا ایک حصہ رک جاتا ہے، بلکہ پیچھے بھی ہٹتا ہے۔ آگے کے مرحلے میں بننے والی نئی نالیاں اور میکولا کا نقصان خود سے واپس نہیں جاتا؛ علاج وہاں بینائی بچانے کی طرف مڑتا ہے۔
ریٹینوپیتھی کا وقت کا پیمانہ برسوں سے گنا جاتا ہے۔ ابتدائی مرحلہ کوئی نشان نہیں چھوڑتا۔ اسی لیے آنکھ کے بارے میں سب سے قیمتی خبر یہ نہیں کہ آنکھ کیسے دیکھتی ہے، بلکہ یہ کہ اس کا پیچھا کیسا دکھتا ہے۔
ماخذ
- American Diabetes Association Professional Practice Committee. 12. Retinopathy, Neuropathy, and Foot Care: Standards of Care in Diabetes—2026. Diabetes Care. 2026;49(Suppl 1):S261–S276. doi:10.2337/dc26-S012
- Shukla UV, Tripathy K. Diabetic Retinopathy. In: StatPearls [Internet]. Treasure Island (FL): StatPearls Publishing; last updated 25 August 2023. Bookshelf ID: NBK560805.
- Zhang J, Zhang J, Zhang C, et al. Diabetic Macular Edema: Current Understanding, Molecular Mechanisms and Therapeutic Implications. Cells. 2022;11(21):3362. doi:10.3390/cells11213362
- Charman WN, Adnan, Atchison DA. Gradients of refractive index in the crystalline lens and transient changes in refraction among patients with diabetes. Biomed Opt Express. 2012;3(12):3033–3042. doi:10.1364/BOE.3.003033
- Türkiye Endokrinoloji ve Metabolizma Derneği (TEMD). Diabetes Mellitus ve Komplikasyonlarının Tanı, Tedavi ve İzlem Kılavuzu-2026. 17. Baskı. TEMD; 2026. ISBN 978-625-99759-8-6