ForMyGluco
بلاگلغت← پہلے صفحے پر

روزمرہ زندگی

جسمانی سرگرمی

3 مضمون

پارک کے راستے پر پڑے ہوئے چلنے والے جوتوں کا ایک جوڑا، ترچھی شام کی روشنی میں؛ آس پاس کوئی نہیں۔حرکت خون کی شکر پر کیسے اثر ڈالتی ہے؟سکڑنے والا پٹھا خون کی شکر کو انسولین سے آزاد ایک راستے سے نیچے کھینچتا ہے، اور سکڑنا شروع ہوتے ہی گلوکوز خلیے میں داخل ہونے لگتا ہے۔ اثر صرف حرکت کے دوران نہیں رہتا۔ پٹھا اس کے بعد گھنٹوں تک انسولین کے لیے زیادہ حساس چلتا ہے۔ ایروبک حرکت اور مزاحمت کی مشق اس تصویر کو الگ الگ طرح بدلتی ہیں۔ · 3 منٹآگے پڑھیں

گلوکوز کے پٹھے کے خلیے میں داخل ہونے کے لیے ایک حامل پروٹین چاہیے۔ اس حامل کا نام GLUT4 ہے اور آرام کے دوران وہ خلیے کے اندر، چھوٹی تھیلیوں کی دیوار میں کھڑا رہتا ہے۔ انسولین آئے تو تھیلیاں خلیے کی جھلی کی طرف چلتی ہیں، حامل سطح پر بیٹھ جاتا ہے اور گلوکوز کے لیے ایک دروازہ کھلتا ہے۔ پٹھا سکڑے تو وہی سفر انسولین کے اشارے کے بغیر شروع ہو جاتا ہے؛ اسے GLUT4 کی نقل مکانی کہتے ہیں، یعنی حامل کا اندرونی ذخیرے سے خلیے کی جھلی تک جانا۔ سکڑنا خود، خلیے کے اندر کی کیلشیم کی لہر اور توانائی کے سینسر کے راستے ایک الگ اشاروں کی زنجیر بناتا ہے۔ پہنچنے والا دروازہ ایک ہے۔ راستہ الگ ہے۔

یہ فرق کاغذ پر رہ جانے والی تفصیل نہیں۔ انسولین مزاحمت کی وجہ سے انسولین کا راستہ کند ہو جائے تب بھی سکڑنے کا راستہ چلتا رہتا ہے، کیونکہ دونوں الگ بٹنوں سے کھلتے ہیں۔ چڑھائی پر چلنے والے کی ران کا پٹھا اس دروازے کو خود پورا کھول دیتا ہے جسے انسولین زور لگا کر ذرا سا کھولتی تھی۔ ایروبک حرکت کے بیچ عدد اسی لیے اترنے لگتا ہے، دوا کی مقدار کو چھوئے بغیر۔

اصل لمبا اثر نشست ختم ہونے کے بعد شروع ہوتا ہے۔ سانس سنبھلتا ہے، پسینہ سوکھتا ہے۔ پٹھا اسی دوران خالی کیا ہوا گلائیکوجن کا ذخیرہ بھرنے میں لگ جاتا ہے۔ ذخیرہ بھرنے کا کام گھنٹے لیتا ہے اور اس عرصے میں پٹھا خون کے گلوکوز کو ہمیشہ سے زیادہ شوق سے کھینچتا ہے۔ ایک چہل قدمی کے بعد بڑھی ہوئی انسولین کی حساسیت دن کے بڑے حصے پر پھیل جاتی ہے۔ صبح کی حرکت کا نشان شام کے کھانے پر بھی وہیں ہوتا ہے۔ اس کھڑکی کا ایک بدل بھی ہے: انسولین یا انسولین کا اخراج کرانے والی دوا لینے والے میں عدد، نشست کے گھنٹوں بعد، اکثر رات کو، گرنے کی حد سے نیچے جا سکتا ہے۔ دیر سے آنے والا اترنا الگ واقعہ نہیں، اسی ذخیرہ بھرنے کے کام کا دیر والا چہرہ ہے۔

حرکت کی قسم تصویر کو ایک بار اور بدلتی ہے۔ ایروبک مشق اور مزاحمت کی مشق نشست کے اندر بھی اور بعد کے گھنٹوں میں بھی الگ برتاؤ کرتی ہیں۔

فرقایروبک حرکتمزاحمت کی مشق
نشست کے دورانعدد گرنے کی سمت بڑھتا ہےعدد ٹھہرا رہتا ہے یا کچھ دیر چڑھتا ہے
نشست کے بعدحساسیت کا بڑھنا نمایاںحساسیت کے ساتھ پٹھے کی مقدار بھی بڑھتی ہے
اتار چڑھاؤاترنا زیادہ تیزبعد کے گھنٹوں میں ہلنا کم

چڑھنے والی سطر وجدان کے خلاف لگتی ہے، حالانکہ اس کا پرزہ جانی پہچانی چیز ہے۔ سخت محنت میں نکلنے والے مخالف ہارمون جگر کو ابھارتے ہیں اور خون میں گلوکوز نکلتا ہے۔ نکلنے والی مقدار کچھ دیر پٹھے کے کھینچنے سے زیادہ ہو سکتی ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ پٹھا گلوکوز نہیں لے رہا۔ یہ نکلنا عارضی ہے۔ نشست کے بعد کی حساسیت پھر بھی کھڑی ہوتی ہے۔

دہرائی گئی نشستیں ان پر ایک اور تہہ رکھ دیتی ہیں۔ باقاعدہ کام کرنے والا پٹھا GLUT4 حامل کی زیادہ مقدار بناتا ہے۔ خلیے کے پاس کا ذخیرہ بڑھتا ہے اور ہر انسولین یا سکڑنے کا اشارہ سطح پر زیادہ حامل بھیج سکتا ہے۔ دروازے ہمیشہ کھلے نہیں رہتے۔ آرام کرتے پٹھے میں حامل پھر تھیلی میں کھڑا ہوتا ہے۔ یہ کمائی مشق چلتی رہے تو قائم رہتی ہے؛ حرکت رکے تو ذخیرہ دنوں میں پرانے درجے پر آ جاتا ہے۔

پٹھے کی گلوکوز لینے کی گنجائش کسی کھاتے میں جمع ہوتی رقم کی طرح برتاؤ نہیں کرتی۔ تینوں اثر دہراؤ پر ٹکے ہیں: سکڑنے کے وقت کا داخلہ، بعد کے گھنٹوں کی حساسیت، ہفتوں میں بڑھنے والا حامل کا ذخیرہ۔ وقفہ آئے تو سب سے پہلے ذخیرہ پیچھے ہٹتا ہے اور وہی انسولین جتنے دروازے کھول سکتی تھی، ان کی تعداد گھٹ جاتی ہے۔

اس مضمون کا اپنا صفحہ ہےکارڈ پر واپس

سیڑھیوں کے ایک زینے پر رکھی پانی کی بوتل؛ اوپر کی سیڑھیاں سائے میں ہیں اور کوئی نظر نہیں آتا۔کیا حرکت شکر گرنے کا سبب بنتی ہے؟حرکت کے شکر گرانے کے لیے درمیان میں انسولین ہونی چاہیے، یا ایک ایسی دوا جو لبلبے کو انسولین نکالنے پر مجبور کرے۔ ایسی دوا لینے والے شخص میں گرنا دو الگ کھڑکیوں میں ہوتا ہے: نشست چلتے ہوئے اور نشست ختم ہونے کے بعد۔ دوسری کھڑکی نیند تک پہنچتی ہے اور پتہ چلنا سب سے مشکل اسی کا ہوتا ہے۔ · 2 منٹآگے پڑھیں

پٹھا کام کرتے ہوئے خون سے گلوکوز کھینچتا ہے۔ صحیح سیٹنگ میں انسولین کا اخراج اسی وقت پیچھے ہٹتا ہے اور جگر کمی پوری کرتا ہے۔ باہر سے دی گئی انسولین یہ پیچھے ہٹنے والا قدم نہیں اٹھاتی، اور لبلبے کو مجبور کرنے والی گولی بھی نہیں اٹھاتی۔ خون میں کھڑا اثر، پٹھا جتنا بھی کھینچے، اپنی جگہ رہتا ہے۔ شکر کیوں گرتی ہے، یہ ایک الگ مضمون شروع سے بیان کرتا ہے۔ یہاں کا سوال زیادہ تنگ ہے: حرکت اس تصویر میں اپنے حصے کا کیا جوڑتی ہے؟

جوڑی جانے والی چیزوں میں سے ایک وقت ہے۔ گرنا نشست چلتے ہوئے بھی آتا ہے، اور مشق کے پہلے منٹ اس میں شامل ہیں۔ دوسری کھڑکی نشست ختم ہونے کے بعد کھلتی ہے اور کہیں لمبی ہوتی ہے؛ پٹھا اپنا خالی ذخیرہ بھرتا رہے تو اثر آدھے دن پر پھیل جاتا ہے۔ یہ دم اپنے آپ کو نشست کے گھنٹوں بعد آنے والی بے موقع بھوک سے، یا سیڑھی پر غیر متوقع طور پر بھاری ہوتی ٹانگوں سے ظاہر کرتا ہے۔

شدت ان دو کھڑکیوں کو ختم نہیں کرتی، صرف ان کی ترتیب الجھاتی ہے۔ چھوٹی اور سخت محنت میں عدد اسی وقت اوپر جاتا ہے، کیونکہ دباؤ کے ہارمون جگر کے اخراج کو پٹھے کی کھپت سے آگے کر دیتے ہیں۔ چڑھنا عارضی ہے۔ ہارمون کا درجہ اترنے کے بعد ذخیرہ بھرنے کا کام پھر اسی نشست کے کھاتے میں لکھا جاتا ہے، یعنی اوپر جا کر ختم ہونے والی مشق بھی پیچھے ایک لمبا دم چھوڑ جاتی ہے۔ نشست نہ دیکھنے والے کے لیے وقت بھی اور شدت بھی اکثر بعد میں کہے گئے چند لفظوں پر آ جاتی ہے۔ ان چند لفظوں سے باہر رہ جانے والا حصہ گھنٹوں بعد آنے والا دم دکھاتا ہے۔

حرکت ایک پردہ بھی کھینچتی ہے۔ پسینہ، تیز ہوتا دل اور کانپتی ٹانگ گرنے کی ابتدائی تنبیہوں میں ہیں، مگر دوڑتے بدن میں یہ تینوں پہلے سے موجود ہیں۔ کمر بھگونے والے پسینے اور گرنے کے لائے پسینے میں فرق نہیں کیا جا سکتا۔ پردے کے پیچھے نہ رہ جانے والے وہ ہیں جو دماغ کے ایندھن سے خالی رہنے سے آتے ہیں: لفظ کا منہ میں گھومنا، جانے پہچانے راستے پر الجھ جانا، پاؤں اور ہاتھ کا ایک دوسرے سے نہ ملنا۔ یہ چیزیں دوڑ نہیں بناتی۔

گھڑی طے کرتی ہے کہ دم کہاں گرے گا۔ شام سے پہلے کی مشق کا دم نیند پر آتا ہے، یعنی دن کے اس وقفے پر جہاں کوئی نہیں دیکھتا۔ نیند میں گزرنے والے زیادہ تر گرنے جگاتے تک نہیں۔ صبح تک بچنے والا ایک سر کا درد یا بغیر آرام کے آنکھ کھلنا اس رات کا واحد ریکارڈ ہو سکتا ہے۔ نشانوں کا پورا مجموعہ رات کو شکر گرنے پر لکھا مضمون جمع کرتا ہے۔ حرکت کا حساب نشست میں نہیں، اس کے بعد کے گھنٹوں میں بند ہوتا ہے۔

اس مضمون کا اپنا صفحہ ہےکارڈ پر واپس

گھر کے اندر سیڑھیوں کے چند زینے، اوپر سے آتی قدرتی روشنی میں؛ ریلنگ کا کنارہ دکھ رہا ہے، کوئی موجود نہیں۔دن کے اندر حرکت کرنے کا کیا مطلب؟دن کے اندر کی حرکت وہ سب کچھ ہے جو کھیل نہیں مانا جاتا: کھڑے ہونا، گھر کا کام، سیڑھی، بات کرتے ہوئے ٹہلنا۔ یہ مجموعہ خون کی شکر پر ناپا جا سکنے والا نشان چھوڑتا ہے۔ بلا وقفہ بیٹھنا خود ایک الگ بوجھ ہے۔ ہال کی ضرورت نہ ہونے کی وجہ سے یہ میدان سب کے لیے کھلا رہتا ہے۔ · 3 منٹآگے پڑھیں

ورزش ایک منصوبہ بند، دہرائی جانے والی اور الگ وقت مانگنے والی مشق ہے۔ دن کے اندر کی حرکت البتہ اس سے باہر رہ جانے والی ہر چیز ہے: کرسی سے اٹھنا، برتن دھوتے ہوئے کھڑا رہنا، کپڑوں کی ٹوکری منزلوں کے بیچ اٹھانا، بازار کے شیلفوں میں گھومنا، جوتے باندھنے کے لیے جھکنا۔ ایک ایک کر کے دیکھیں تو کوئی بھی کام کرتی نہیں لگتی۔ ان کا مجموعہ البتہ دن کے حرکت کے بجٹ کا سب سے بڑا خانہ بناتا ہے۔ پٹھے کا خون سے گلوکوز کھینچنا ایک الگ موضوع ہے؛ یہاں کا معاملہ یہ ہے کہ وہ چھوٹے ٹکڑے دن پر کیسے بٹتے ہیں۔

بلا وقفہ بیٹھنے کا اپنا الگ اثر ہے۔ ٹائپ 2 والے بڑوں پر چلائے گئے ایک تجربے میں آٹھ گھنٹے کی نشست دو الگ طریقوں سے توڑی گئی۔ ایک میں آدھے گھنٹے پر چند منٹ کی ہلکی چہل قدمی تھی۔ دوسرے میں اسی کثرت سے اپنی جگہ کی سادہ مزاحمت کی حرکتیں۔ دونوں نظاموں میں کھانے کے بعد کا گلوکوز اور انسولین کا جواب بلا وقفہ بیٹھنے کے مقابلے نمایاں طور پر کم رہا۔ فائدہ چلی گئی مسافت سے نہیں، نشست کے ٹوٹنے سے آتا ہے۔

خود ٹوٹنے کو ناپا جائے تو تصویر بدلتی ہے۔ ستر بڑوں کو تین الگ نظاموں میں دیکھا گیا۔ بازو یوں تھے: نو گھنٹے بلا وقفہ بیٹھنا، آدھے گھنٹے کی ایک چہل قدمی کے بعد بیٹھنا، اور آدھے گھنٹے میں ایک بار کی دو منٹ کے قریب کی چھوٹی چہل قدمیاں۔ وقفوں والا بازو، کھانے کے بعد کے گلوکوز اور انسولین کے منحنی خط میں بلا وقفہ بیٹھنے کو بھی اور ایک نشست والے بازو کو بھی پیچھے چھوڑ گیا۔ ٹرائی گلیسرائیڈ میں ترتیب الٹ گئی؛ وہاں ایک لمبی چہل قدمی آگے نکلی۔ یعنی صبح ایک نشست کر کے باقی گھنٹے بیٹھ کر گزارنا اور وہی حرکت دن پر پھیلانا الگ کام کرتے ہیں۔

دن کے اندر کی حرکت کی الگ پہچان رسائی ہے۔ چندہ، سامان، راستہ اور الگ کیا ہوا وقت درکار نہیں۔ سیڑھی ایک منزل پر بھی فرق بناتی ہے۔ پھر بھی ان مثالوں کا زیادہ تر حصہ پاؤں پر بوجھ ڈالتا ہے۔ پاؤں کا مسئلہ، نیوروپیتھی یا حرکت کی پابندی ہو تو سیڑھی اور لمبا کھڑا رہنا مناسب نہ ہو۔ رہنما اصول اسی لیے بیٹھ کر کیے جا سکنے والے بدل بھی گنتے ہیں: بیٹھی حالت میں ٹانگ کھولنا، سر کے اوپر بازو بڑھانا۔ دروازہ کھولنے والی چیز پٹھے کا کام میں آنا ہے، اس لیے یہ انتخاب بھی تصویر میں شامل ہیں۔

تو کتنی؟ رہنما اصول اسے ایک ہفتہ وار چوکھٹے میں رکھتے ہیں۔ درمیانی یا اونچی شدت کی ایروبک حرکت کے لیے ہفتے میں ڈیڑھ سو منٹ اور اس سے اوپر کا ذکر ہے۔ وہ کم از کم تین دن پر پھیلا ہو اور بیچ میں دو دن سے لمبا خلا نہ رہے۔ مزاحمت کی مشق اس وقت کی جگہ نہیں لیتی، ہفتے میں دو یا تین بار الگ سے گنی جاتی ہے۔ لمبی نشست کے بلاک بھی ایک الگ مادہ ہیں: کم از کم آدھے گھنٹے میں ایک بار ٹوٹنے کا ذکر ہے۔ یہ وقفہ ایک بار چھوٹا ہوا۔ رہنما اصول پہلے کہیں لمبے بلاک برداشت کرتے تھے؛ دس سال پہلے کی نظرثانی کے ساتھ یہ آدھے گھنٹے پر آیا اور اسی دن سے وہیں کھڑا ہے۔

چھوٹی حرکتوں کا مجموعہ ایک بڑی نشست کی جگہ نہیں لیتا؛ دم اور پٹھے کی مقدار بڑھانے والا کام وہی ہے۔ دن کے اندر کی حرکت کا کام اور ہے۔ وہ دن کے اندر کی لمبی سیدھی لکیریں توڑتی ہے۔ پیمائش کی سکرین پر دکھنے والی تصویر یہ دو کام مل کر بناتے ہیں۔

اس مضمون کا اپنا صفحہ ہےکارڈ پر واپس

یہ مضمون صرف معلومات کے لیے ہے؛ نہ یہ بیماری کی تشخیص ہے، نہ علاج یا مقدار کی ہدایت۔ آپ کے علاج کا فیصلہ ہمیشہ وہی ہوتا ہے جو آپ اپنے ڈاکٹر کے ساتھ مل کر لیتے ہیں۔

پورا بلاگ