ForMyGluco
بلاگلغت← پہلے صفحے پر

علامات اور تشخیص

ذیابیطس اتنی پیاس اور دبلاپن کیوں لاتی ہے؟

· 2 منٹ

تیز پہلو کی روشنی میں باہر سے پسینے سے تر ایک خالی کانچ کا جگ، ساتھ الٹا پڑا ایک خالی گلاس اور میز پر بکھرے پانی کے چند نشان۔

ذیابیطس میں شکر کا ایک حصہ خون میں جمع ہوتا ہے، گردے سے پیشاب میں جاتا ہے اور جاتے ہوئے پانی بھی ساتھ کھینچ لے جاتا ہے۔ بدن وہ پانی واپس مانگتا ہے، اس لیے پیاس نہیں تھمتی۔ اسی وقت خلیے شکر اندر نہیں لے پاتے اور بدن ذخیرے کو ایندھن میں بدلتا ہے۔ پانی زیادہ پینا اور دبلا ہونا اسی لیے ساتھ چلتے ہیں۔

گردہ خون سے گزرنے والی شکر واپس جذب کرتا ہے اور خون کو لوٹا دیتا ہے۔ مگر یہ جذب کرنے کی گنجائش لامحدود نہیں۔ ہائپرگلائسیمیا اس حد سے اوپر چلتی رہے تو نیفران کے گلوکوز کے حامل بھر جاتے ہیں اور بڑھی ہوئی شکر پیشاب میں رستی ہے۔ شکر جاتے ہوئے پانی بھی ساتھ کھینچتی ہے؛ اس کا نام اوسموٹک ڈائیوریسس ہے۔ پولی یوریا اسی کھنچاؤ سے جنم لیتا ہے: پیشاب گھنا بھی ہوتا ہے اور مقدار میں بڑا بھی۔

کھویا ہوا سیال خون کو گاڑھا کرتا ہے۔ ہائپوتھیلیمس کے اوسمو ریسیپٹر یہ گاڑھا پن پڑھتے ہیں اور پیاس کا الارم کھول دیتے ہیں۔ منہ خشک ہوتا ہے، زبان تالو سے لگتی ہے۔ رات کی نیند پانی اور بیت الخلا کے بیچ بٹ جاتی ہے۔ پیا ہوا پانی پیشاب سے نکلتا رہتا ہے اس لیے پولی ڈپسیا بند نہیں ہوتا۔ گلاس خالی ہوتا ہے، پیاس اپنی جگہ کھڑی رہتی ہے۔ جانے والا صرف پانی بھی نہیں؛ سوڈیم اور پوٹاشیم اسی بہاؤ میں شامل ہوتے ہیں اور پٹھے کی طاقت اس نقصان سے اپنا حصہ لیتی ہے۔

جو محسوس ہوتا ہےاس کے پیچھے کا پرزہ
بار بار پیشابپیشاب کی شکر پانی کو ساتھ کھینچ رہی ہے
نہ تھمنے والی پیاسکھویا ہوا سیال خون کو گاڑھا کر رہا ہے
وزن کا گھٹناپیشاب سے کیلوری جا رہی ہے، ذخیرے بھی گھل رہے ہیں

دبلا ہونے کے دو راستے ہیں اور پہلا پیشاب ہے۔ کھائی ہوئی روٹی، دودھ اور پھل کا کاربوہائیڈریٹ خون میں گلوکوز بن کر داخل ہوتا ہے۔ اس گلوکوز کا ایک حصہ استعمال ہوئے بغیر پیشاب میں مل جاتا ہے۔ دسترخوان سے پیٹ بھر کر اٹھنے والا شخص بھی توانائی کا حصہ بیت الخلا میں چھوڑ آتا ہے۔

دوسرا راستہ انسولین کی طرف ہے۔ انسولین کم ہو یا انسولین مزاحمت اشارہ کمزور کر رہی ہو تو خلیہ دروازے پر کھڑا گلوکوز اندر نہیں لے پاتا۔ بدن اس وقت ایسے برتاؤ کرتا ہے جیسے بھوکا ہو: چربی کی بافت کھولتا ہے، جگر نیا ایندھن بناتا ہے۔ انسولین کی کمی میں گلوکاگون بے مقابل رہ جاتا ہے۔ پٹھے سے کھلنے والے امینو ایسڈ جگر میں جاتے ہیں اور وہاں نئے گلوکوز میں بدلتے ہیں۔ پٹھے کا پروٹین توازن یوں نقصان کی طرف مڑتا ہے، نیا پروٹین بننا پیچھے ہٹتا ہے۔ وزن پلیٹ سے نہیں، ذخیرے سے اترتا ہے۔

مسلسل بھوک بھی اسی تصویر کا حصہ ہے۔ خون کی شکر اونچی ہو تب بھی خلیے کا اندر ایندھن کے بغیر رہتا ہے۔ دماغ اس خلا کو بھوک کے طور پر پڑھتا ہے۔ ناشتے کے بعد بھی کچھ کھانے کی خواہش لوٹ آتی ہے۔ تھکن اسی جڑ سے بندھی ہے: گھٹتا سیال، گھلی ہوئی پٹھے کی بافت اور اندر نہ جا سکنے والی توانائی۔ کام کے دن کے بیچ نڈھالی اسی لیے بھاری پڑتی ہے۔

یہی پرزہ ہر ذیابیطس میں ایک ہی رفتار سے آنکھ میں نہیں آتا۔ نشان کس ترتیب سے نمودار ہوتے ہیں اور کون سا مجموعہ اسی دن جانچ مانگتا ہے، یہ ذیابیطس کی پہلی علامات بتانے والا الگ مضمون ایک ایک کر کے سجاتا ہے۔

علاج شروع ہونے کے بعد گلوکوز ہدف کی حد کے قریب آئے تو گردہ شکر پیشاب میں دینا چھوڑ دیتا ہے۔ اوسموٹک ڈائیوریسس رک جاتا ہے، سیال کا توازن بیٹھ جاتا ہے، رات کو اٹھنا کم ہو جاتا ہے۔ پیاس اور دبلاپن کا ساتھ چلنا اسی سے آتا ہے کہ دونوں کو ایک ہی پرزہ بناتا ہے۔

ماخذ

  1. American Diabetes Association Professional Practice Committee. 2. Diagnosis and Classification of Diabetes: Standards of Care in Diabetes—2026. Diabetes Care. 2026;49(Suppl 1):S27–S49. doi:10.2337/dc26-S002
  2. World Health Organization. Diabetes (fact sheet). Geneva: WHO; 14 November 2024.
  3. Sapra A, Bhandari P. Diabetes. In: StatPearls [Internet]. Treasure Island (FL): StatPearls Publishing; updated 21 June 2023. NCBI Bookshelf NBK551501.
  4. James H, Gonsalves WI, Manjunatha S, et al. The Effect of Glucagon on Protein Catabolism During Insulin Deficiency: Exchange of Amino Acids Across Skeletal Muscle and the Splanchnic Bed. Diabetes. 2022;71(8):1636–1648. doi:10.2337/db22-0079

یہ مضمون صرف معلومات کے لیے ہے؛ نہ یہ بیماری کی تشخیص ہے، نہ علاج یا مقدار کی ہدایت۔ آپ کے علاج کا فیصلہ ہمیشہ وہی ہوتا ہے جو آپ اپنے ڈاکٹر کے ساتھ مل کر لیتے ہیں۔

اسی موضوع کے دوسرے مضامین

اپنی ڈائری شروع کریں

ForMyGluco آپ کی پیمائشیں، دوائیں اور ملاقاتیں ایک ہی جگہ رکھتی ہے، اور ایک ٹیپ میں وہ PDF رپورٹ دیتی ہے جسے آپ معائنے پر لے جاتے ہیں۔

App Store پر دیکھیں ←

پورا بلاگ