کاربوہائیڈریٹ کیا ہے، کتنی قسمیں ہیں؟
· 2 منٹ

کاربوہائیڈریٹ کھانوں کے اندر کے تین بنیادی غذائی اجزا میں سے ایک ہے اور بدن تک توانائی پہنچاتا ہے۔ اس کے تین ذیلی عنوان ہیں: نشاستہ، شکر اور ریشہ۔ پہلے دو ہاضمے کے دوران ٹوٹ کر گلوکوز بنتے ہیں، اور ریشہ بغیر ٹوٹے اپنے راستے چلتا رہتا ہے۔ یہاں کا سوال یہ ہے کہ تینوں ایک ہی خاندان میں کیوں گنے جاتے ہیں۔
کاربوہائیڈریٹ ایک دوسرے سے جڑے شکر کے حلقوں سے بنا ایک غذائی خاندان ہے۔ کوئی ایک حلقہ، کوئی ہزاروں حلقوں کی لمبی زنجیر۔ منہ کے لعاب کا اینزائم زنجیر توڑنا شروع کرتا ہے، اور چھوٹی آنت کے اینزائم کام آخر تک لے جاتے ہیں۔ زنجیر اکیلے حلقوں پر اتر آئے تو یہ حلقے آنت کی دیوار سے گزر کر خون میں مل جاتے ہیں۔ کھانے کے بعد خون میں جانے والے گلوکوز کا راستہ یہی ہے۔
بدن خون میں جانے والا یہ گلوکوز ضائع نہیں کرتا۔ پٹھے اور دماغ اسے سیدھا ایندھن کے طور پر استعمال کرتے ہیں، اور ضرورت سے زیادہ حصہ جگر اور پٹھے کی بافت میں ذخیرے کی صورت کھڑا رہتا ہے۔ دماغ اس ایندھن سے دوسرے اعضا کے مقابلے زیادہ سختی سے بندھا ہے۔ کاربوہائیڈریٹ اسی لیے زیادہ تر غذائی نظاموں میں توانائی کے بنیادی سرچشمے کے طور پر جگہ پاتا ہے۔
نشاستہ لمبی زنجیر کا نام ہے؛ وہ روٹی میں، چاول میں اور آلو میں گاڑھا موجود ہے۔ شکر چھوٹی زنجیر ہے۔ پھل میں، دودھ میں اور میٹھے مشروب میں اصل کاربوہائیڈریٹ کی شکل یہی ہے۔ ریشہ البتہ وہ تیسری اور الگ قسم ہے جسے ہاضمے کے اینزائم نہیں کھول پاتے۔ یہ تینوں ایک ہی چھت کے نیچے ہیں مگر آنت میں ان کے راستے الگ ہو جاتے ہیں۔ فرق کاغذ پر سادہ لگتا ہے، مگر لیبل پڑھتے وقت وہ کام کے بالکل بیچ میں کھڑا ہوتا ہے۔
| روزمرہ مثال | غالب کاربوہائیڈریٹ کی شکل |
|---|---|
| روٹی، چاول، سویاں، جئی | نشاستہ اور کچھ ریشہ |
| سیب، کیلا، سنگترہ، اسٹرابیری | شکر اور ریشہ |
| دودھ، دہی | لیکٹوز نام کی دودھ کی شکر |
| مسور، چنا، لوبیا | نشاستہ اور بہت ریشہ |
| آلو، مکئی، مٹر | نشاستہ |
گوشت، مچھلی، انڈا، پنیر اور تیل ان شکلوں میں سے کوئی بھی قابلِ ذکر مقدار میں نہیں اٹھاتے۔ کون سا غذائی گروہ کاربوہائیڈریٹ کی طرف کھڑا ہے، اسے تفصیل سے بتانے والا ایک الگ مضمون ہے۔
ریشہ خاندان کا نہ ہضم ہونے والا سرا ہے۔ پانی میں گھلنے والی اور نہ گھلنے والی شکلیں الگ برتاؤ کرتی ہیں۔ گھلنے والا ریشہ آنت میں جیل جیسی گاڑھاہٹ لے لیتا ہے؛ نہ گھلنے والا اپنا راستہ بڑی حد تک جوں کا توں چلاتا ہے۔ بڑی آنت کے جرثومے ان زنجیروں کا ایک حصہ توڑ دیتے ہیں۔ یعنی ریشہ بھی ایک کاربوہائیڈریٹ ہے، مگر خون تک گلوکوز پہنچانے کے کام میں شامل نہیں ہوتا۔
میٹھا پن یہاں ایک دھوکہ دینے والا اشارہ ہے۔ نشاستے کا مزہ ذرا بھی میٹھا نہیں ہوتا، پھر بھی ہاضمے کے آخر میں وہ انہی گلوکوز کے حلقوں پر اترتا ہے۔
روزمرہ زبان میں “سادہ” اور “پیچیدہ” کاربوہائیڈریٹ کا فرق اکثر آتا ہے۔ یہ نام زنجیر کی لمبائی بتاتا ہے، ہاضمے کی رفتار نہیں۔ رفتار طے کرنے والی چیزیں کہیں اور کھڑی ہیں: دانہ پسا ہے یا نہیں، پکانے کا وقت، چیز کی بناوٹ اور پلیٹ میں اس کے ساتھ کیا ہے۔ یعنی “پیچیدہ” کا لیبل اکیلا سست ہونے کا مطلب نہیں رکھتا۔
کاربوہائیڈریٹ کو پہچاننا، دوپہر کے وقفے میں کھلنے والے ایک پیکٹ یا میز پر رکھے گلاس کے اندر کیا ہے یہ دیکھنا اور لیبل کی سطریں سمجھنا آسان کر دیتا ہے۔ کتنے گرام ہیں، یہ جاننا ایک الگ ہنر ہے اور لیبل پڑھنے کے مضمون کا موضوع ہے۔ خلاصہ سادہ ہے۔ کاربوہائیڈریٹ ایک مادہ نہیں، تین رخوں والا ایک خاندان ہے۔
ماخذ
- Holesh JE, Aslam S, Martin A. Physiology, Carbohydrates. [Updated 2023 May 12]. In: StatPearls [Internet]. Treasure Island (FL): StatPearls Publishing; 2026.
- Daley SF, Shreenath AP. The Role of Dietary Fiber in Health Promotion and Disease Prevention: A Practical Guide for Clinicians. [Updated 2025 Dec 1]. In: StatPearls [Internet]. Treasure Island (FL): StatPearls Publishing; 2026.
- American Diabetes Association Professional Practice Committee. 5. Facilitating Positive Health Behaviors and Well-being to Improve Health Outcomes: Standards of Care in Diabetes-2026. Diabetes Care. 2026;49(Suppl 1):S89-S131. doi:10.2337/dc26-S005
- World Health Organization. Guideline: Sugars Intake for Adults and Children. Geneva: World Health Organization; 2015. ISBN 978-92-4-154902-8.