کیا ذیابیطس میں پھل کھایا جا سکتا ہے؟
· 2 منٹ

پھل ذیابیطس میں کوئی ممنوع غذا نہیں؛ اس کے اندر کی شکر ریشے، پانی اور حجم کے ساتھ آتی ہے۔ سالم پھل اور پھل کے رس کے الگ ہونے پر ایک الگ مضمون موجود ہے۔ یہاں کا سوال یہ ہے کہ فرق کہاں ختم ہوتا ہے: خشک اور پسی ہوئی شکلیں اس لکیر کے کس طرف گرتی ہیں، اور لمبی مدت کی معلومات کیا کہتی ہیں؟
پھل کی شکر زیادہ تر فرکٹوز، گلوکوز اور دونوں کے جوڑ سے بنا سکروز ہوتی ہے۔ یہ شکر گلاس کی طرح آزاد حالت میں نہیں کھڑی ہوتی؛ وہ پھل کی خلیوں کی دیواروں کے اندر بیٹھی ہوتی ہے۔ اس کے گرد ریشہ، پانی اور کافی حجم ہے۔ ایک سیب ختم کرنا وقت مانگتا ہے، چبانا مانگتا ہے، اور معدہ بھرتا ہے۔
پھل کی شکل بدلے تو یہ پیکٹ بھی بدل جاتا ہے۔ وہی پھل؛ سالم، نچوڑا ہوا اور خشک حالت میں تین الگ چیزیں بن جاتا ہے۔
| شکل | ریشہ اور پانی | آنت تک پہنچنے کی رفتار |
|---|---|---|
| سالم پھل | دونوں اپنی جگہ | چبانا مانگتا ہے، معدے کا نکاس سست |
| نچوڑا ہوا رس | ریشے کا زیادہ حصہ پھوک کے ساتھ چلا جاتا ہے | مائع ہونے کی وجہ سے جلد گزرتا ہے |
| خشک پھل | ریشہ رہتا ہے، پانی چلا جاتا ہے | اسی حجم میں کہیں زیادہ گاڑھا |
| پورے کا پورا پسا ہوا پھل | دونوں اپنی جگہ رہتے ہیں | بناوٹ باریک ہوتی ہے، حجم بڑی حد تک رہ جاتا ہے |
پھل کے رس میں دو چیزیں گم ہو جاتی ہیں: ریشہ اور چبانا۔ پھوک الگ ہو تو پھل کا ریشہ گلاس میں نہیں، چھلنی میں رہ جاتا ہے۔ یہ صفحہ اس میں نہیں جاتا کہ مائع ٹھوس سے تیز کیوں چلتا ہے؛ وہ پرزہ “کون سے مشروب شکر بڑھاتے ہیں؟” عنوان میں کھڑا ہے۔ یہاں طے کرنے والی چیز اور ہے: ایک گلاس میں کتنے پھل داخل ہوئے، یہ اکثر نظر سے نکل جاتا ہے۔ اتنے ہی پھل ساتھ ساتھ رکھے ہوں تو آنکھ بھر جاتی ہے۔
خشک پھل میں پانی جاتا ہے اور شکر رہ جاتی ہے۔ ایک مٹھی خشک انگور، اسی وزن کے تازہ انگور سے کہیں زیادہ کاربوہائیڈریٹ اٹھاتی ہے۔ ریشہ اب بھی وہیں ہے، مگر حجم چھوٹا ہونے کی وجہ سے اس کا پیٹ بھرنے والا اثر کمزور پڑ جاتا ہے۔ اسے جیب میں یا کام کی میز پر رکھنا آسان ہے، اس لیے بغیر پتہ چلے زیادہ کھا لینا عام بات ہے۔
پیسنا ایک الگ عنوان ہے۔ صحت مند نوجوانوں کے ساتھ کیے گئے بیس افراد کے ایک چھوٹے تجربے میں، پسے ہوئے پھل کا کھانے کے بعد کا جواب سالم پھل سے کم نکلا۔ ایک چھوٹا تجربہ کوئی عام اصول نہیں بناتا۔
لمبی مدت کا ثبوت البتہ ایک ٹکڑا نہیں۔ لاکھوں لوگوں کو برسوں دیکھنے والے تین گروہوں کے مشترکہ تجزیے میں سالم پھل اور پھل کا رس ٹائپ 2 کی کثرت کے لحاظ سے الٹے پڑے۔ اس کے مقابل، جن رسوں میں شکر نہیں جوڑی گئی انہیں جمع کرنے والے ایک میٹا تجزیے میں ایسا کوئی جوڑ نہ نکلا۔ میٹھے کیے گئے رسوں میں خطرہ زیادہ تھا۔
یہاں سے کوئی ممنوع چیزوں کی فہرست نہیں نکلتی۔ پھل کی قسم سے زیادہ، وہ کس شکل میں اور کتنا آیا، یہ نتیجہ طے کرتا ہے۔ ایک ڈبے کا تیار پھل کا رس اور پلیٹ کا ایک سنگترہ، ایک ہی نام اٹھا کر بھی دو الگ چیزیں ہیں۔ ایک کھانے میں کتنا سماتا ہے، یہ حصے کے مضمون کا موضوع ہے۔
ماخذ
- Muraki I, Imamura F, Manson JE, Hu FB, Willett WC, van Dam RM, Sun Q. Fruit consumption and risk of type 2 diabetes: results from three prospective longitudinal cohort studies. BMJ. 2013;347:f5001. doi:10.1136/bmj.f5001
- Xi B, Li S, Liu Z, Tian H, Yin X, Huai P, Tang W, Zhou D, Steffen LM. Intake of fruit juice and incidence of type 2 diabetes: a systematic review and meta-analysis. PLoS One. 2014;9(3):e93471. doi:10.1371/journal.pone.0093471
- Crummett LT, Grosso RJ. Postprandial Glycemic Response to Whole Fruit versus Blended Fruit in Healthy, Young Adults. Nutrients. 2022;14(21):4565. doi:10.3390/nu14214565
- World Health Organization. Guideline: Sugars Intake for Adults and Children. Geneva: World Health Organization; 2015. ISBN 978-92-4-154902-8.
- American Diabetes Association Professional Practice Committee. 5. Facilitating Positive Health Behaviors and Well-being to Improve Health Outcomes: Standards of Care in Diabetes-2026. Diabetes Care. 2026;49(Suppl 1):S89-S131. doi:10.2337/dc26-S005