علامات اور ہنگامی حالات
شکر کا گرنا
6 مضمون
گاڑی چلاتے ہوئے شکر گرے تو کیا بگڑتا ہے؟اسٹیئرنگ کے سامنے کا کام دماغ کے سب سے مہنگے کام ایک ساتھ اور بلا وقفہ چلاتا ہے۔ توجہ، آنکھ کا سڑک چھاننا اور سیکنڈ کا فیصلہ اسی ایک بہاؤ کا حصہ ہیں۔ خون کی شکر اترنے لگے تو تینوں ساتھ کمزور ہوتے ہیں؛ سمیولیٹر میں چلانا بگڑتا ہے، چلانے والا بگڑنا محسوس بھی کرتا ہے، درستی پھر بھی دیر سے آتی ہے۔ · 2 منٹآگے پڑھیں
سڑک پر گزرنے والا ہر منٹ دماغ سے بلا وقفہ کام مانگتا ہے۔ لین دیکھنا، آئینے چھاننا اور فاصلہ اندازنا ایک ساتھ چلتے ہیں۔ دماغ گلوکوز جمع نہیں کرتا۔ بہاؤ پتلا ہو تو سب سے مہنگے کام پہلے اٹکتے ہیں۔ سڑک کے کاموں کی پوری فہرست بھی اسی مہنگی طرف ہے۔ اٹکنا توجہ اور فیصلے کی رفتار میں بھی دکھتا ہے اور ہاتھ کے کام میں بھی؛ دونوں مل کر ایک ہی ادراکی اور حرکتی بگاڑ کے طور پر ناپے جاتے ہیں۔ ٹھہرے ہوئے بیٹھے وقت چھوٹا لگنے والا درجہ، اسٹیئرنگ پر بیٹھے شخص میں ناپے جا سکنے والے فرق میں بدل جاتا ہے۔
اس اٹکنے کو سیدھا ناپنے والا ایک سمیولیٹر کا تجربہ ہے۔ ٹائپ 1 والے بڑے پہلے معمول کے راستے پر، پھر درجہ بہ درجہ گرائی گئی خون کی شکر کے ساتھ اسی نظام میں چلے۔ چلانا تینوں نچلے درجوں میں بگڑا؛ سب سے ہلکے درجے پر بھی بگاڑ ناپا گیا۔ شریک لوگ بگاڑ محسوس کر رہے تھے۔ یہ محسوس کرنا، خود گرنے کے سمجھ میں آنے کے ساتھ اور دماغ کی طرف کی علامتوں کے ساتھ چلا؛ چلانے کا بگاڑ خود البتہ کپکپی اور پسینے جیسی بدنی علامتوں سے جڑا نکلا۔ اس کے باوجود درست کرنے والا برتاؤ صرف سب سے نچلے درجے پر نمودار ہوا۔ ساتھ لیا گیا دماغ کی لہر کا ریکارڈ بھی اسی طرف دیکھتا تھا: نیوروگلائیکوپینیا کے ساتھ بڑھنے والی سست لہر، درست کرنے والے برتاؤ کا راستہ روک رہی تھی۔
دوسری معلومات میدان سے آتی ہے۔ چار سو سے زیادہ چلانے والوں نے ایک سال تک مہینہ بہ مہینہ اطلاع بھری۔ اطلاع دی گئی واقعات کی قسموں میں گاڑی کا قابو کھو دینا، سڑک کا ایک حصہ بعد میں یاد نہ رہنا اور اسٹیئرنگ ساتھ والے کو دے دینا شامل تھا۔ چلانے والوں کے آدھے سے زیادہ نے سال کے اندر کم از کم ایک بار گرنے سے جڑا چلانے کا واقعہ بتایا۔ کثرت، سڑک پر گزرے فاصلے کے ساتھ اور پہلے گزری ہوئی ایک بھاری گراوٹ کے ساتھ بڑھ رہی تھی۔
“شکر گر جائے تو کیا کریں؟” عنوان میں گرنے کے پتہ چلنے کے بعد کا راستہ ہے۔ ان واقعات کی مشترک زمین البتہ نیوروگلائیکوپینیا ہے، یعنی دماغ کے ایندھن سے خالی رہ جانے کے ساتھ آنے والی دوسری لہر۔ اس لہر میں سوچ کی رفتار، انتخاب کرنا اور توجہ میں رہنا ایک ساتھ بھاری ہوتے ہیں۔ بدنی اشارے اس سے پہلے آتے ہیں۔ بار بار دہرانے والا گرنا اس اشارے کو برسوں میں چھوٹا کر سکتا ہے۔
تیسری بات قطار کے آخر میں کیا ہوتا ہے، اس بارے میں ہے۔ جن بڑوں کی خون کی شکر قابو کے ساتھ گرائی اور پھر چڑھائی گئی، ان میں ادراک کی جانچیں ڈیڑھ گھنٹے تک جاری رکھی گئیں۔ پیچھے رہ جانے والی پیمائش وہ جانچ تھی جو ایک سے زیادہ انتخابوں میں سے تیز انتخاب کرنا آزماتی ہے؛ عدد اپنی جگہ بیٹھ جانے کے بعد بھی وہ چالیس منٹ تک نیچے رہی۔ ترتیب کا پیچھا کرنے کو ناپنے والی نشان کھینچنے کی جانچ کہیں جلد سنبھل گئی۔ ان پیمائشوں میں عدد کے سنبھلنے کا لمحہ اور انتخاب کی رفتار کے سنبھلنے کا لمحہ ایک دوسرے پر نہیں گرے۔
رات کو شکر گرنے کا پتہ کیسے چلتا ہے؟نیند میں ہونے والا شکر کا گرنا اکثر بغیر پتہ چلے گزر جاتا ہے، کیونکہ جگانے والی سمجھی جانے والی علامات رات بھر کمزور پڑ جاتی ہیں۔ پیچھے صبح تک پہنچنے والے نشان رہ جاتے ہیں: بھاری ہوا سر، پسینے والی رات، بغیر آرام کے آنکھ کھلنا۔ یہ مضمون انہی نشانوں کو اور رات کے الگ وقت ہونے کی وجہ کو بیان کرتا ہے۔ · 3 منٹآگے پڑھیں
رات دن کا سب سے لمبا خالی پیٹ گزرنے والا وقفہ ہے۔ اس وقفے میں کوئی پیمائش نہیں کرتا۔ انسولین یا انسولین کا اخراج بڑھانے والی دوا اپنا اثر جاری رکھے اور نیا کاربوہائیڈریٹ کا بوجھ نہ آئے تو خون کی شکر گھنٹوں تک خاموشی سے نیچے کھسک سکتی ہے۔ آپ جاگتے ہوتے تو بدن اسے ایک الارم میں بدل دیتا۔ نیند میں وہ الارم کمزور پڑ جاتا ہے۔
جاگنے کا ردعمل نیند کی لیبارٹری میں سیدھا ناپا گیا۔ شکر قابو کے ساتھ نیچے لائی گئی۔ صحت مند رضاکاروں میں سے زیادہ تر جاگ گئے۔ ٹائپ 1 والے شرکا میں سے صرف ایک جاگا۔ ٹائپ 2 پر چلائے گئے ایک الگ کام میں بھی، شکر گرائی گئی رات میں جاگنے کی تعداد انہی لوگوں کی معمول کی رات سے کم نکلی۔ بھاری چلنے والے گرنے کا آدھے سے زیادہ حصہ رات پر آتا ہے۔
پیچھے جو بچتا ہے، وہ صبح جاگنے پر محسوس ہونے والے نشان ہیں۔ وہ رات کا ریکارڈ نہیں رکھتے مگر سمت دکھاتے ہیں۔ ان نشانوں کا ایک حصہ سونے والے کی اپنی صبح سے نہیں، اس رات جاگے ہوئے کسی اور کے سنے سے آتا ہے۔ سوئے ہوئے شخص میں گرنے کا پتہ کیسے چلتا ہے، یہ ایک اور عنوان اٹھاتا ہے۔
| صبح تک بچنے والا نشان | اس کے پیچھے کیا ہے |
|---|---|
| نم تکیہ، پسینے سے بھیگی چادر | گرنے کے خلاف نکلنے والے دباؤ کے ہارمون پسینہ چھیڑتے ہیں |
| ٹھک ٹھک کرتی صبح کے سر کا درد | دماغ رات بھر ایندھن کی لہر سے نمٹتا رہا |
| الارم بجنے سے پہلے تھکا ہوا جاگنا | نیند چل رہی ہے مگر آرام دینے والی خاصیت کھو رہی ہے |
| ساتھ والے کی سنی ہوئی بےچین، آواز والی نیند | گرنا نیند کا بہاؤ توڑ رہا ہے |
| صبح کے پہلے گھنٹوں میں بکھرا ہوا مزاج | رات کے گرنے کا اگلے دن تک پہنچنے والا نشان |
رات کے نظر نہ آنے کی وجہ سادہ ہے: انگلی کے سرے سے کی جانے والی پیمائش نیند میں نہیں دہرائی جاتی۔ مسلسل گلوکوز دیکھنے والے نظام یہ خلا بھرتے ہیں، کیونکہ وہ شخص سے کچھ مانگے بغیر رات بھر ریکارڈ جاری رکھتے ہیں۔ یہ نظام عام ہوئے تو کھلا کہ رات کے گرنے سمجھے جانے سے زیادہ ہوتے ہیں اور دن والوں سے لمبے بھی چلتے ہیں۔ نگرانی کا نظام نہ رکھنے والے کے لیے پیچھے صبح کے نشان رہ جاتے ہیں۔ رات کے بیچ میں پیمائش کرنا، ذیابیطس کی ٹیم کے سامنے لایا جانے والا ایک الگ راستہ ہے۔
صبح تک بچنے والے نشان ایک ایک کر کے عام لگتے ہیں۔ تھکن، درد اور بری نیند اور بھی کئی وجوہ سے ہوتی ہے۔ الگ کرنے والی چیز دہراؤ ہے: انہی نشانوں کا مخصوص راتوں کے بعد باقاعدگی سے لوٹنا۔ کن راتوں کے بعد آتے ہیں، یہ ساتھ لکھ لینا کام آسان کرتا ہے: شام کے کھانے کا وقت، اس دن کی حرکت، سونے سے پہلے کی آخری پیمائش۔ یہ نمونہ ذیابیطس کی ٹیم کے ساتھ بانٹنا، رات کو نظر میں لانے کا سب سے عملی راستہ ہے۔
ایک سوال کھلا کھڑا ہے۔ نشان دیکھ لینے کے بعد کیا؟ رات کا گرنا دن والے سے الگ طرح نہیں چلتا اور پتہ چلنے پر جو راستہ لیا جاتا ہے وہ “شکر گر جائے تو کیا کریں؟” مضمون میں کھڑا ہے۔ رات کی اپنی خاص بات یہ ہے: جسے جگایا نہ جا سکے، اسے منہ سے دی گئی کوئی چیز کام نہیں کرتی۔ اس گھڑی حالت پڑھنے والا سونے والا نہیں، ساتھ والا ہوتا ہے۔ اسی لیے ایک ہی گھر میں سونے والے کا گلوکاگون کو جاننا، صبح کے نشان پہچاننے جتنا ہی اہم ہے۔ ساتھ والے نے رات بھر جو دیکھا وہ بھی ریکارڈ کا حصہ ہے اور کیا بدلے گا، اس کا فیصلہ ریکارڈ دیکھنے والی ٹیم کرتی ہے۔
خون میں شکر کیوں گر جاتی ہے؟خون کی شکر اپنے آپ نہیں گرتی، کیونکہ ہر گرنا آنے والے گلوکوز اور اسے خلیے تک لے جانے والے اثر کے بیچ کی ایک بے میلی سے نکلتا ہے۔ کبھی چھوڑا ہوا کھانا، کبھی غیر معمولی حد تک متحرک دن، کبھی گردے کا دوا کو پہلے جیسا صاف نہ کر پانا۔ یہ مضمون بکھری ہوئی وجوہ کو ایک چھت کے نیچے جمع کرتا ہے۔ · 3 منٹآگے پڑھیں
ذیابیطس میں ہونے والے گرنے کا تقریباً سارا حصہ خود علاج سے نکلتا ہے۔ بدن میں ایک ترازو ہے۔ ایک طرف شکر گرانے والا اثر۔ دوسری طرف اسے اوپر رکھنے والے سرچشمے۔ گرانے والی طرف انسولین اور لبلبے کو ابھارنے والی دوائیں ہیں؛ سلفونیل یوریا اور گلینائیڈ اسی گروہ میں آتے ہیں۔ اوپر رکھنے والی طرف کھایا ہوا کھانا، جگر کا ذخیرہ اور گرنا محسوس کر کے حرکت میں آنے والے ہارمون ہیں۔ گرنا ترازو کا غیر متوقع طور پر جھک جانا ہے۔ لمبا اثر رکھنے والی دوا میں یہ جھکاؤ، دوا لینے کے وقت پر نہیں بلکہ آگے کے گھنٹوں پر پڑ سکتا ہے۔
ترازو جھکے تو بدن اسے ظاہر کرتا ہے۔ کن نشانوں سے ظاہر کرتا ہے، یہ ایک الگ مضمون کا موضوع ہے؛ “شکر کا گرنا کیسے پتہ چلتا ہے؟” وہ جگہ شروع سے آخر تک بیان کرتا ہے۔ یہاں کا سوال نشان نہیں، ترازو کے جھکنے کی وجہ ہے۔ وجوہ پہچاننا، نشان نمودار ہونے پر دن کو پیچھے مڑ کر دیکھنا آسان کر دیتا ہے۔
ترازو سب سے زیادہ کھانے کی طرف سے بگڑتا ہے۔ کھانا دیر سے آئے یا چھوٹ جائے تو متوقع بوجھ نہیں آتا۔ گرانے والا اثر پھر بغیر مقابل کے چلتا ہے۔ حرکت بھی اسی ترازو کے دوسرے سرے پر دباؤ ڈالتی ہے۔ ایک غیر معمولی دن (سیڑھیوں سے اٹھائے گئے بازار کے تھیلے، لمبا ہوتا باغ کا کام) پٹھوں کے گلوکوز کھینچنے کو بڑھاتا ہے۔ یہ اثر حرکت ختم ہوتے ہی نہیں بجھتا؛ پٹھے اپنا ذخیرہ نیا کرتے وقت اور انسولین کے لیے حساسیت اونچی رہتے وقت یہ گھنٹوں چل سکتا ہے۔
| وجہ | توازن کیسے بگاڑتی ہے |
|---|---|
| انسولین یا لبلبے کو ابھارنے والی دوا کا آنے والے بوجھ سے نہ ملنا | گرانے والا اثر مقابل کے بغیر چلتا رہتا ہے |
| کھانے کا دیر سے آنا یا چھوٹ جانا | متوقع گلوکوز نہیں آتا، ترازو ایک طرف جھک جاتا ہے |
| بغیر منصوبے کی یا لمبی ہوتی حرکت | پٹھے گلوکوز تیزی سے کھینچتے ہیں، اثر حرکت کے بعد بھی چلتا ہے |
| شراب | اثر پینے کے وقت نہیں، بعد میں نمودار ہوتا ہے؛ وجہ شراب کا مضمون کھولتا ہے |
| گردے کے کام کا بگڑنا | انسولین اور دوا سست صاف ہوتی ہے، ان کے اثر لمبے ہوتے ہیں |
| وزن کا گھٹنا اور راستے کا سنبھلنا | ضرورت گھٹتی ہے اور پرانا نظم جوں کا توں رہتا ہے |
گردے کی طرف کم جانی جاتی ہے مگر اس کا وزن بڑا ہے۔ خون کی انسولین کا صاف ہونا زیادہ تر گردہ سنبھالتا ہے؛ چھاننے کی رفتار گرے تو وہی مقدار بدن میں زیادہ دیر رہتی ہے۔ گردے سے نکلنے والی دواؤں کا معاملہ بھی یہی ہے۔ اس پر گردے کی اپنی گلوکوز کی پیداوار کا گھٹنا اور بھوک کمزور ہونے پر ذخیروں کا پتلا ہونا جڑ جاتا ہے۔ بڑی عمر میں یہ عوامل زیادہ بار اوپر تلے آتے ہیں۔ شخص یہ تبدیلی محسوس نہیں کرتا؛ گردے کی چھاننے کی طاقت خون اور پیشاب کی جانچ دکھاتی ہے، اور جانچ کا راستہ بدلے تو گرنے کا خطرہ بھی بدلتا ہے۔
وزن کم کرنا یا راستے کا سنبھلنا ایک خاموش وجہ ہے۔ بدن اسی انسولین کو زیادہ مضبوط جواب دے اور پرانا نظم چلتا رہے تو ترازو کھسک جاتا ہے۔ یہ کھسکنا ہفتوں تک بغیر پتہ چلے چل سکتا ہے۔ درمیان میں کوئی نیا واقعہ نہیں۔ بدلنے والی چیز خود ضرورت ہے۔
ان وجوہ کی مشترک بات یہ ہے کہ زیادہ تر اکیلی کافی نہیں ہوتیں۔ گرنا کئی عوامل کے ایک ہی دن پر آ جانے سے نکلتا ہے: دیر سے آیا کھانا اور ایک لمبی چہل قدمی، یا تھکا دینے والا دن اور شام کا ایک جام۔ اسی لیے گرنے والے دن کو پیچھے کی طرف پڑھنا کام آتا ہے۔ کھانے کا وقت، حرکت کا دورانیہ اور دوا لینے کا لمحہ ساتھ رکھیں تو وجہ دکھنے لگتی ہے۔ یہ ریکارڈ، نظم میں کیا بدلے گا اس پر نظر رکھنے والی ذیابیطس کی ٹیم کے لیے بھی سب سے ٹھوس معلومات ہے۔
شکر گر جائے تو کیا کریں؟شکر گر جائے تو دو کام ترتیب سے چلتے ہیں: گرنے کو تیزی سے واپس موڑنا، اور پھر پیمائش سے دیکھنا کہ وہ واقعی مڑا ہے۔ تیزی سے جذب ہونے والا کاربوہائیڈریٹ یہ کرتا ہے؛ چاکلیٹ جیسی چکنی مٹھائی نہیں کرتی، کیونکہ چکنائی جذب میں دیر کراتی ہے۔ رہنما اصولوں کا 15-15 کا اصول انہی دو قدموں کو باندھتا ہے۔ · 3 منٹآگے پڑھیں
گرنے کو واپس موڑنے والی چیز رفتار ہے۔ معدے میں جانے والا کاربوہائیڈریٹ جتنی جلدی خون میں پہنچے، دماغ کے ایندھن کے بغیر رہنے کا وقفہ اتنا ہی چھوٹا ہوتا ہے۔ رہنما اصولوں کی پہلی پسند خالص گلوکوز ہے، کیونکہ اس کے ساتھ جذب کو روکنے والا کوئی ساتھی نہیں۔ گلوکوز اٹھانے والے دوسرے کاربوہائیڈریٹ بھی شکر چڑھاتے ہیں۔ ایک مجموعے نے پایا کہ خالص گلوکوز لینے والوں میں علامات پھل کے رس یا مٹھائی لینے والوں کے مقابلے زیادہ بار ختم ہوئیں۔
سست انتخاب یہاں اپنا کام نہیں کرتا۔ چاکلیٹ، ویفر اور آئس کریم بہت شکر اٹھاتے ہیں مگر چکنائی معدے کے خالی ہونے میں دیر کراتی ہے۔ ADA کے دیکھ بھال کے معیار لکھتے ہیں کہ جڑی ہوئی چکنائی گلائسیمک جواب کو سست بھی کرتی ہے اور لمبا بھی۔ پروٹین والی کوئی چیز بھی مناسب نہیں بیٹھتی، کیونکہ وہ خود انسولین کا اخراج چھیڑتی ہے۔ مطلوب چیز سست چڑھاؤ نہیں، جلد واپسی ہے۔
رہنما اصولوں کا 15-15 کا اصول کہلانے والا طریقہ ان کاموں کو ایک ثابت ترتیب میں رکھتا ہے۔ نام کے عدد کاربوہائیڈریٹ کے گرام اور انتظار کا دورانیہ بتاتے ہیں، خون کی شکر کی قدر نہیں۔ ذرائع کی بیان کی ہوئی ترتیب یوں چلتی ہے:
- تیزی سے جذب ہونے والا ایک کاربوہائیڈریٹ؛ اصول کے نام کا پہلا عدد اسی کے گرام بتاتا ہے۔
- اس کے بعد ایک چھوٹا انتظار؛ دوسرا عدد اسی وقت کے منٹ دیتا ہے۔
- وقت کے آخر میں دوبارہ پیمائش: واپسی واقعی ہوئی یا نہیں؟
- واپسی نہ ہو تو ذرائع اسی قدم کو دہرانے کا کہتے ہیں، اور سنبھلنا نہ آئے تو طبی مدد کا۔
علامات کا تھم جانا اکیلا ثبوت نہیں، کیونکہ علامت اور پیمائش ایک ساتھ نہیں سنبھلتے۔ گرنا کن نشانوں سے اپنے آپ کو دکھاتا ہے اور کچھ لوگوں میں یہ نشان کیوں بالکل نمودار نہیں ہوتے، یہ “شکر کا گرنا کیسے پتہ چلتا ہے؟” مضمون اٹھاتا ہے۔ اصول کا دوسرا نصف بھی یہی قدم مانگتا ہے: انتظار کا وقت وہ وقفہ دیتا ہے جس میں پیمائش بامعنی نکلے۔ پیمائش اسی لیے علامت سے الگ، اپنی جگہ کھڑا ایک قدم ہے۔
ایک اور خطرہ بھی ہے۔ انسولین یا لبلبے کو ابھارنے والی دوا اب بھی اثر میں ہو تو گرنا دہرا سکتا ہے۔ اس کا نشان یہ ہے کہ سنبھلنے کے بعد وہی علامات لوٹ آئیں۔ یہ دوسرا گرنا منٹوں میں ہونا ضروری نہیں؛ دوا کا اثر چلتا رہے تو گھنٹوں بعد بھی نکل سکتا ہے۔ لمبا اثر رکھنے والی انسولین اور سلفونیل یوریا لینے والوں میں وقفہ اور بھی چوڑا ہے۔ رہنما اصول اسی لیے سنبھلنے کے بعد کچھ کھانے کا ذکر کرتے ہیں۔
زیادہ درست کرنے کی اپنی قیمت ہے۔ گھبراہٹ باورچی خانے کی الماری خالی کر دینے والی جلدی پیدا کرتی ہے۔ شکر ہدف سے بہت اوپر چلی جاتی ہے، پھر درستی آتی ہے، پھر ایک نیا گرنا۔ دن ایک جھولے میں بدل جاتا ہے۔ ایک ناپی ہوئی مقدار کے ساتھ گھڑی کے چلنے کا انتظار کرنا، اس جھولے کو چھوٹا کرتا ہے۔
ایک حد ہے: شخص نگل نہ پا رہا ہو تو منہ سے دی گئی کوئی چیز کام نہیں کرتی۔ جگایا نہ جا سکنا، سوالوں کا جواب نہ دے پانا اور منہ میں رکھی چیز نگل نہ پانا اسی حد کے نشان ہیں۔ اس کے بعد کا حصہ ایک الگ راستے کا موضوع ہے۔ اسے وہ شخص خود نہیں، ساتھ والا کوئی چلاتا ہے اور اس کا نام گلوکاگون ہے۔
- شکر گرنے پر چاکلیٹ کام کرتی ہے؟
- اپنی چکنائی کی وجہ سے وہ سست رہتی ہے، حالانکہ درکار چیز جلدی ہے۔ معدہ دیر سے خالی ہو تو چڑھاؤ بھی دیر سے آتا ہے اور لمبا بھی چلتا ہے۔ جس گھڑی جلد واپسی چاہیے، وہاں یہ ناپسندیدہ خاصیت ہے۔
- 15-15 کے اصول کے عدد خون کی شکر کی قدر ہیں؟
- نہیں۔ ایک کاربوہائیڈریٹ کے گرام ہیں، دوسرا انتظار کے منٹ۔ یہ اصول کسی حد کا بیان نہیں، ایک ترتیب اور وقت کا بیان ہے۔
- سنبھلنے کے بعد دوبارہ ناپنا کیوں ضروری ہے؟
- کیونکہ نشانوں کا گزر جانا خون میں واپسی کا ثبوت نہیں مانا جاتا۔ اس کے علاوہ اثر میں چلتی انسولین ایک نیا گرنا لا سکتی ہے؛ رہنما اصول اسی لیے پیمائش دہرانے اور اس کے بعد کچھ کھانے کا مشورہ دیتے ہیں۔
گلوکاگون کیا ہے، کب ضروری ہوتا ہے؟گلوکاگون وہ ہارمون ہے جو لبلبہ خارج کرتا ہے اور جو انسولین کا الٹ کام کرتا ہے: یہ جگر کے ذخیرے کو ابھارتا ہے اور ذخیرہ گلوکوز خون میں دے دیتا ہے۔ دوا کی شکل بھاری گرنے کے لیے ہے، یعنی ان لمحوں کے لیے جب شخص اپنے آپ نہ سنبھل سکے۔ اصل بات یہ ہے: اسے خود مریض نہیں، ساتھ والا کوئی چلاتا ہے۔ · 3 منٹآگے پڑھیں
بدن کا گرنے کے خلاف اپنا ہارمون ہے اور اس کا نام گلوکاگون ہے۔ خون کی شکر اترنا شروع ہو تو لبلبے کے الفا خلیے گلوکاگون خارج کرتے ہیں۔ ہارمون جگر تک جاتا ہے اور وہاں جمع گلائیکوجن کو گلوکوز میں بدلواتا ہے۔ جگر یہیں نہیں رکتا، وہ صفر سے نئے گلوکوز کی پیداوار میں بھی لگ جاتا ہے۔ انسولین اگر شکر کو خلیوں میں بٹھانے والا ہارمون ہے، تو گلوکاگون اسے ذخیرے سے نکال کر گردش میں دینے والا ہارمون ہے۔
دوا کی شکل والا گلوکاگون، بدن کا اپنا کیا ہوا کام باہر سے دہراتا ہے۔ درکار حالت تنگ اور صاف ہے: شخص جگایا نہ جا سکے، سوالوں کا جواب نہ دے پائے یا نگل نہ سکے۔ ایسی گھڑی منہ میں رکھی شکر کام نہیں کرتی؛ نگلنے کا ردعمل نہ چلنے کی وجہ سے سانس کی نالی میں جانے کا خطرہ بنتا ہے۔ گلوکاگون نگلنے کا محتاج نہیں، کیونکہ وہ معدے سے نہیں بلکہ پٹھے اور جلد کے نیچے سے یا ناک کے اندر کی باریک جھلی سے جذب ہوتا ہے۔
| سوال | منہ سے کاربوہائیڈریٹ | گلوکاگون |
|---|---|---|
| کس کے لیے مناسب | جاگتا ہوا، نگل سکنے والا شخص | نگل نہ سکنے والا یا جگایا نہ جا سکنے والا |
| کون دیتا ہے | خود وہ شخص | ساتھ کھڑا کوئی دوسرا |
| شکر کہاں سے آتی ہے | باہر سے، ہاضمے کے راستے | جگر کے اپنے ذخیرے سے |
| اس کے بعد | دوبارہ پیمائش | طبی مدد، سنبھلنے پر کاربوہائیڈریٹ |
آج دو شکلیں عام ہیں۔ ایک سوئی کے راستے جاتی ہے۔ پہلے ڈبے کے اندر سفوف اور سیال الگ کھڑے ہوتے تھے اور دینے والے کو دونوں ملانے پڑتے تھے؛ گھبراہٹ میں یہ قدم اکثر بگڑ جاتا تھا۔ تیار قلم اور پہلے سے بھری ہوئی سرنجوں نے وہ ملانے کا قدم بالکل ختم کر دیا۔ دوسری شکل ناک میں چھڑکا جانے والا سفوف ہے؛ شخص کے سانس لینے کی ضرورت نہیں، سفوف ناک کی جھلی سے خود گزر جاتا ہے۔ ADA کے دیکھ بھال کے معیار استعمال کی آسانی کی وجہ سے تیار شکلوں کو آگے رکھتے ہیں۔
اصل مسئلہ یہ ہے کہ جانے گا کون۔ بھاری گرنے کی تعریف ہی یہ ہے: شخص اپنے آپ نہیں سنبھل پا رہا، کسی اور کے ہاتھ کی ضرورت ہے۔ اسی لیے ADA کہتا ہے کہ انسولین لینے والے یا گرنے کا زیادہ خطرہ رکھنے والے ہر شخص کو گلوکاگون لکھا جائے، اور اس کے قریب والوں کو ڈبے کی جگہ اور استعمال سکھایا جائے۔ گھر والے، کمرے کا ساتھی، دفتر میں ساتھ بیٹھنے والا، اسکول کا ذمہ دار، سفر میں ساتھ والا شخص۔ تھیلے میں پڑا ڈبہ کوئی نہ پہچانتا ہو تو وہ ڈبہ وہاں نہ ہونے کے برابر ہے۔
گلوکاگون کی پہلی حد خود ذخیرہ ہے۔ جگر میں گلائیکوجن کم ہو تو اثر کمزور پڑتا ہے؛ لمبا خالی پیٹ، شراب اور جگر کی بیماری یہ حالت لاتی ہیں۔ تو ذخیرہ ناکافی رہ گیا ہو تو یہ کیا دکھاتا ہے؟ متوقع چیز یہ ہے کہ دینے کے بعد پندرہ منٹ کے اندر آنکھیں کھلیں، آواز واپس آئے، نظر سنبھلے۔ ایسا نہ ہو رہا ہو تو تصویر گلوکاگون سے بند نہیں ہوئی؛ ذرائع اس جگہ کو طبی مدد بلا تاخیر مانگنے کا لمحہ کہتے ہیں۔
دوسری حد وقت ہے۔ خون کی شکر ایک وقفے کے لیے چڑھتی ہے، پھر دوبارہ اترنے لگتی ہے۔ شخص سنبھلنے کے بعد پسینے، کپکپی اور غفلت کا لوٹ آنا اسی کا نشان ہے۔ ذرائع اس کے لیے کہتے ہیں کہ شخص نگلنے کے قابل ہوتے ہی کاربوہائیڈریٹ کی طرف لوٹے۔ متلی اور قے عام دکھنے والا مضر اثر ہے؛ تربیت کا سامان اسی لیے شخص کو کروٹ پر لٹانے کا بتاتا ہے۔
- گلوکاگون خود وہ شخص استعمال کر سکتا ہے؟
- ہلکے گرنے میں ضرورت نہیں؛ بھاری گرنے میں وہ شخص پہلے ہی خود کوئی کام نہیں کر پا رہا۔ تعریف یہی ہے۔ اسی لیے اصل مسئلہ یہ ہے کہ ساتھ والے ڈبے کو پہچانتے ہوں۔
- کیا اس کی سوئی کے بغیر شکل ہے؟
- ہاں، ناک میں چھڑکے جانے والے سفوف کی شکل موجود ہے۔ سفوف سانس لینے کی ضرورت کے بغیر ناک کے اندر کی نم جھلی سے جذب ہوتا ہے۔ ذرائع اس شکل کی وضاحت یہ کہہ کر کرتے ہیں کہ بغیر تربیت والا شخص اسے زیادہ آسانی سے دے سکتا ہے۔
- کیا گلوکاگون ہر گرنے میں کام آتا ہے؟
- اس کا اثر جگر کے ذخیرے پر ٹکا ہے۔ لمبے خالی پیٹ میں اور شراب کے بعد ذخیرہ کم ہوتا ہے اور ملنے والا جواب بھی کمزور رہتا ہے۔ اسے ناپنے والی کوئی چیز نہیں؛ نشان خود وہ شخص ہے۔ جاگ نہ رہا ہو تو جواب نہیں آیا، کام گلوکاگون سے ختم نہیں ہوا۔
شکر کا گرنا کیسے پتہ چلتا ہے؟شکر کا گرنا دو لہروں میں آتا ہے: پہلے ایڈرینالین کا بجایا ہوا الارم، پھر دماغ کا ایندھن کے بغیر رہ جانا۔ پہلی لہر کپکپاتی ہے، پسینہ لاتی ہے، دل کی دھڑکن تیز کرتی ہے اور اچانک بھوک جگاتی ہے۔ دوسری توجہ بکھیرتی ہے، نظر دھندلاتی ہے، بولنے میں اٹکاتی ہے۔ پہلی خبردار کرتی ہے، دوسری بتاتی ہے کہ گرنا آگے بڑھ چکا ہے۔ · 3 منٹآگے پڑھیں
خون میں شکر گرنا شروع ہوتے ہی بدن فوراً جواب دیتا ہے۔ جگر گلوکاگون کے اشارے پر جمع گلوکوز خون میں چھوڑتا ہے۔ ایڈرینالین کام پر لگ جاتی ہے۔ وہ پہلی لہر گرنا خود نہیں بناتا، بلکہ گرنے کو بدن کا دیا ہوا جواب بناتا ہے۔ الارم اس لیے ہے کہ دماغ کے ایندھن ختم ہونے سے پہلے بج جائے۔ اسی لیے پہلی خبرداریاں ہاتھ، معدے اور دل سے متعلق ہوتی ہیں۔
دوسری لہر کہیں اور سے آتی ہے۔ دماغ گلوکوز جمع نہیں کر سکتا۔ بہاؤ گھٹے تو پہلے سوچنا، دیکھنا اور بولنا بگڑتا ہے۔ رہنما اصول دوسرے گروہ کو نیوروگلائیکوپینک کہتے ہیں، کیونکہ ترتیب خبر رکھتی ہے: خبرداری سنے بغیر دماغ سست ہو جائے تو گرنا آگے بڑھ چکا ہے۔
- ایڈرینالین کی لہر: کپکپی، پسینہ، دل کی دھڑکن، اچانک بھوک، سنسناہٹ، بے چینی، رنگ کا اڑنا۔
- دماغ کی لہر: توجہ نہ جمنا، دھندلی نظر، بولنے میں اٹکنا، غنودگی، اونگھ، بے کار ہوتے ہاتھ، عجیب برتاؤ۔
- رات کے لیے الگ سے گنے جاتے ہیں: پاجامہ یا چادر بھگو دینے والا پسینہ، ڈراؤنا خواب یا نیند میں چیخنا، جاگنے کے بعد بھی تھکا، چڑچڑا یا بکھرا رہنا۔
کوئی ایک علامت اکیلی ثبوت نہیں۔ جوش بھی کپکپاتا ہے، گرمی بھی پسینہ لاتی ہے، بے نیند رات بھی توجہ بکھیرتی ہے۔ وہپل کی تینوں والا پیمانہ یہ ہے: علامت موجود ہے، پیمائش نیچی آ رہی ہے، شکر بڑھنے پر علامت چلی جاتی ہے۔ تینوں ایک ساتھ ملیں تو علامت کا ماخذ صاف ہے۔ مگر ایک نیچی پیمائش علامت کے بغیر بھی نیچی ہے۔ امریکن ذیابیطس ایسوسی ایشن کہتی ہے کہ بغیر علامت والی نیچی پیمائش کو نہ گننا نہیں، بلکہ اسے محسوس کرنے کی صلاحیت کند ہونے کا نشان سمجھنا چاہیے۔
الارم وقت کے ساتھ کند ہو جاتا ہے۔ گرنا بار بار ہو تو ایڈرینالین کا جواب کمزور پڑتا ہے۔ خبرداری کی لہر چھوٹی ہو جاتی ہے، کبھی آتی ہی نہیں۔ پہلے جو محسوس ہوتا ہے وہ کپکپی نہیں، ذہن کا دھندلا پن ہوتا ہے۔ امریکن ذیابیطس ایسوسی ایشن کے نگہداشت معیار اسے ہائپوگلائسیمیا محسوس کرنے کی صلاحیت کا بگڑنا کہتے ہیں۔ سب سے بھاری درجہ عدد سے نہیں، اس بیان سے طے ہے: شخص خود سنبھل نہیں پا رہا، کسی اور کی مدد چاہیے۔
رات کے گرنے خاموشی سے گزر جاتے ہیں۔ پیچھے ایک نم چادر، ایک الجھا خواب اور ایک بھاری صبح رہ جاتی ہے۔ سونے سے پہلے کی پیمائش اور صبح کی پیمائش کے بیچ کا خلا بہی کی سب سے اندھیری جگہ ہے۔
- کیا شکر گرنے سے کپکپی ہوتی ہے؟
- ہاں، سب سے جانی پہچانی علامتوں میں سے ایک؛ کپکپی سیدھی ایڈرینالین سے آتی ہے اور گرنا درست ہونے پر تھم جاتی ہے۔
- کیا سر درد اور نیند کا احساس بھی گنے جاتے ہیں؟
- دونوں علامتوں کی فہرست میں ہیں۔ نیند کا احساس دوسری لہر کا نشان ہے: دماغ ایندھن کے بغیر رہ جائے تو بھاری ہو جاتا ہے۔ رات کے لیے الگ سے گنے جاتے ہیں نم چادر، ڈراؤنا خواب اور جاگنے کے بعد بھی تھکا یا بکھرا رہنا۔
- کیا سردی اور متلی بھی ہوتی ہے؟
- ماخذوں کی گنی ہوئی بنیادی فہرست میں پسینہ، کپکپی، دھڑکن، بھوک اور سنسناہٹ ہیں۔ سردی ٹھنڈے پسینے کے ساتھ چلنے والا احساس ہے۔ متلی ان فہرستوں میں نہیں؛ اکیلی سمت نہیں دکھاتی۔
- کیا علامت محسوس کیے بغیر بھی شکر گرتی ہے؟
- ہاں؛ خبرداری کی لہر کند ہو جائے تو پہلے دوسری لہر محسوس ہوتی ہے: توجہ کا بکھرنا، غنودگی، عجیب برتاؤ۔ قریبی لوگوں کا دیکھ لینا اسی لیے قیمتی ہے۔ کچھ لوگوں میں الارم بجے بھی تو بات میں نہیں ڈھلتا: بولنے سے قاصر بچے میں یا خود کو سمجھا نہ پانے والے بڑے میں پہلی لہر کا واحد نشان باہر سے دکھنے والی حالت ہوتی ہے۔
- ملاقات میں کون سا سوال کام آتا ہے؟
- امریکن ذیابیطس ایسوسی ایشن جانچ میں جو ایک جملے کا سوال استعمال کرتی ہے وہ یہ ہے: کیا آپ اپنی نیچی شکر ہر بار محسوس کر پاتے ہیں؟ جواب نہیں ہو تو معالج اسے الگ سے پرکھتا ہے۔
یہ مضمون صرف معلومات کے لیے ہے؛ نہ یہ بیماری کی تشخیص ہے، نہ علاج یا مقدار کی ہدایت۔ آپ کے علاج کا فیصلہ ہمیشہ وہی ہوتا ہے جو آپ اپنے ڈاکٹر کے ساتھ مل کر لیتے ہیں۔